دنیا کی معتبر ترین کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں میں شمار ہونے والے ادارے S&P Global Ratings نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ ‘+CCC’ سے بڑھا کر ‘-B’ کر دی ہے، جو ملکی معیشت میں بہتری اور استحکام کا واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اپ گریڈ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی حکومت نے کئی اہم اصلاحات اور مالیاتی اقدامات کے ذریعے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔
S&P Global Ratings دنیا کی تین بڑی بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں میں سے ایک ہے جو دنیا بھر کی حکومتوں، مالیاتی اداروں اور کارپوریٹ کمپنیوں کی معاشی اور مالی ساکھ کا جامع تجزیہ کرتی ہے۔ ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 20.5 ارب ڈالر ہو گئے ہیں، جو اب حکومت کی تمام بیرونی ادائیگیوں کو باآسانی پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد پہلی بار سالانہ بنیاد پر سرپلس میں گیا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ریکارڈ 39 ارب ڈالر کی ترسیلات زر ہیں جو بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ہیں۔
مزید برآں، حکومت کی جانب سے کی گئی ٹیکس اصلاحات کی بدولت محصولات میں جی ڈی پی کا تین فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ مالی خسارہ 7.9 فیصد سے کم ہو کر 5.6 فیصد پر آ گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2023 میں مہنگائی کی شرح 29 فیصد تھی، جو اب 2025 میں کم ہو کر 4.5 فیصد تک آ گئی ہے، جس سے مجموعی مالیاتی دباؤ میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔
S&P کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے کی گئی اصلاحات نے نہ صرف آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے بلکہ محصولات کی وصولی کو بھی بہتر بنایا ہے۔ انہی اقدامات کے نتیجے میں ملکی معیشت نے بحالی کی راہ اختیار کی ہے، اور رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت 2025 میں 2.7 فیصد اور 2026 میں 3.6 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی۔ اس کے علاوہ پاکستانی روپے کی قدر میں استحکام آیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور شرح مبادلہ کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کی جانب سے 16.8 ارب ڈالر کی مالی معاونت نے پاکستان کو بیرونی مالی دباؤ سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کے لیے 20 ارب ڈالر کے 10 سالہ تعاون کے فریم ورک کی منظوری کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
ایک اور اہم مالیاتی اقدام کے طور پر حکومت نے قلیل مدتی قرضوں کے بجائے طویل مدتی بانڈز کے ذریعے قرضوں کی تنظیم نو کا آغاز کر دیا ہے، جس سے قرضوں کی پائیداری میں بہتری آئے گی اور مالیاتی مستقبل مزید مستحکم ہوگا۔
S&P Global Ratings کی جانب سے دی گئی یہ ریٹنگ اپ گریڈ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ماہ قبل ایک اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی Fitch Ratings نے بھی پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کی تھی، جس میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جاری اصلاحات کو تسلیم کیا گیا تھا۔ عالمی سطح پر S&P کی ریٹنگز کو مالیاتی منڈیوں میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور یہ کسی بھی ملک کی معیشت پر عالمی اعتماد کا اظہار ہوتی ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کو آخری بار جولائی 2022 میں بی مائنس کی درجہ بندی ملی تھی، تاہم اس وقت آؤٹ لک منفی تھا۔ اس سے قبل فروری 2019 میں پاکستان کو بی مائنس کے ساتھ مستحکم آؤٹ لک دیا گیا تھا، جو اب دوبارہ بحال ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی ریٹنگ میں یہ بہتری بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کر سکتی ہے۔