امریکا آبنائے ہرمز میں کیا کرنے والا ہے؟ امریکی اخبار کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا

امریکا آبنائے ہرمز میں کیا کرنے والا ہے؟ امریکی اخبار کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا

امریکا اور ایران کے درمیان جاری بحری تنازع نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے جہاں امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن خلیج اور بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کو قبضے میں لینے کی نئی حکمتِ عملی تیار کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھا کر اسے اپنے جوہری پروگرام پر لچک دکھانے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے پر مجبور کرنا ہے۔

امریکا کے اس اقدام کے ردعمل میں ایران نے آبنائے ہرمز میں گزرنے والے تمام بحری جہازوں کے لیے سخت قواعد و ضوابط نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا پراعتماد نہیں، ضمانت چاہتے ہیں، آبنائے ہرمز سے ہم نہیں تو کوئی اور بھی نہیں گزرے گا، باقر قالیباف

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، اب اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے ہر جہاز کو ایرانی بحریہ سے پیشگی اجازت لینا ہوگی اور وہ صرف ایران کے متعین کردہ راستوں پر سفر کر سکے گا۔

ایرانی بحریہ کے سربراہ ریئر ایڈمرل شہرام ایرانی نے امریکی دھمکیوں کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے عالمی سطح پر امریکی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور ان کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔

یاد رہے کہ سامنے آنے والی اس کشیدگی نے لبنان میں ہونے والی حالیہ جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی امیدوں کو دھندلا دیا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکا اپنی بحری ناکہ بندی اور ’غیر قانونی اقدامات‘ واپس نہیں لیتا، آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی وہ تجارتی شہ رگ ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ کے بعد ایران نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر اس راستے کو کھولنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نے تہران کو دوبارہ سخت موقف اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ امریکا اب صرف پابندیوں پر اکتفا کرنے کے بجائے سمندر میں عملی کارروائی کے ذریعے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف، ایران کی جانب سے ’اجازت نامے‘  کی شرط دراصل اس آبی گزرگاہ پر اپنی عملی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش ہے تاکہ کسی بھی امریکی مہم جوئی کا فوری جواب دیا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *