آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد بھارت کا 2000 کروڑ روپے کا ’فائر کنٹرول ریڈار‘ معاہدہ، دفاعی تیاری یا سیاسی مہم؟

آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد بھارت کا 2000 کروڑ روپے کا ’فائر کنٹرول ریڈار‘ معاہدہ، دفاعی تیاری یا سیاسی مہم؟

آپریشن سندور کے بعد فضائی دفاعی نظام کو مضبوط رکھنے کے لیے، بھارت کی وزارتِ دفاع (MoD) نے آج بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (BEL) کے ساتھ 2000 کروڑ روپے کا معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت آرمی کے لیے جدید ’فائر کنٹرول ریڈارز‘ (FCR) خریدے جائیں گے۔

ان ریڈارز میں کم از کم 70 فیصد مقامی تیاری کا مواد شامل ہوگا، اور یہ جنگی طیاروں، حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور دشمن کے ڈرونز سمیت تمام فضائی خطرات کو شناخت کرنے اور پھر ان پر حملہ کرنے کے لیے ہتھیاروں کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آزاد ریسرچ کے مطابق بھارت کا BEL کے ساتھ یہ نیا معاہدہ سرکاری طور پر فضائی دفاع کو مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض دفاعی تیاری نہیں بلکہ آپریشن سندور کی جارحانہ حکمت عملی کا تسلسل ہے، جو اب بھی حکام کے مطابق’ جاری‘ ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی-آر ایس ایس حکومت داخلی تنقید اور گرتی ہوئی ساکھ سے گھبرا کر عسکریت کو ایک پردے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ 70 فیصد دیسی ساختہ مواد اور معاہدے کی فوری فراہمی کے تقاضے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حکومت ممکنہ طور پر مزید کارروائیوں کی تیاری کر رہی ہے، نہ کہ کشیدگی میں کمی۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار”اگنی ویر” اسکیم کے تحت اپنے نوجوان فوجیوں کو مروانے لگی

ریسرچ کے مطابق وزیراعظم مودی کی پاکستان مخالف تقاریر اور مسلسل جنگی بیانات اس خیال کو تقویت دیتے ہیں کہ یہ معاہدہ ایک طویل مدتی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد دشمنی کو برقرار رکھنا ہے۔ ’میک ان انڈیا‘ اور ’خود انحصاری‘ جیسے نعروں کی آڑ میں حکومت نہ صرف عسکری سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے بلکہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے حب الوطنی کا بیانیہ بھی بنا رہی ہے۔

نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ قدم نہ تو امن کو ترجیح دیتا ہے اور نہ ہی داخلی مسائل کو حل کرتا ہے۔ موجودہ حکومت کے لیے پاکستان سب سے آسان نشانہ بن چکا ہے، اور یہ خریداری اس بات کا اشارہ ہے کہ ایک اور اشتعال انگیزی محض وقت کی بات ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’مودی کا جنگی جنون سرچڑھ کر بولنے لگا‘، تعلیمی اداروں کا عسکری استعمال؟ بھارتی یونیورسٹیاں فوجی تربیت گاہ بن گئیں

یہ سرحدی دفاع نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے بیانیے میں لپٹی ہوئی سیاسی جنگ ہے، جو پورے خطے کو ایک نئے خطرناک دور میں دھکیل سکتی ہے۔

 

Related Articles