پاور ڈویژن کے اعلامیہ کے مطابق پرانے اور ناکارہ سرکاری پاور پلانٹس کے ملبے کو 46.73 ارب روپے میں فروخت کر دیا گیا۔ 61 یونٹس کے ملبے کی فروخت کے لیے ریزرو پرائس 45.817 ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔
اعلامیہ کے مطابق یہ ریزرو پرائس اسٹیٹ بینک کے ماہرین نے مقرر کی تھی۔ فروخت کیے گئے سرکاری تھرمل پلانٹس میں جامشورو بلاک ون اور ٹو، گدو ٹو، اور سکھر کے پلانٹس شامل ہیں۔
اس کے علاوہ کوئٹہ، مظفر گڑھ بلاک ون اور بلاک ٹو فیصل آباد کے سرکاری تھرمل پاور پلانٹس بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
پاور ڈویژن کے مطابق ان پلانٹس کے ملازمین کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ ناکارہ پاور پلانٹس کے ملبے پر ہر سال اربوں روپے کا خرچہ آ رہا تھا۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان ناکارہ پلانٹس کے ملبے کی فروخت کا فائدہ بجلی صارفین کو بھی ہو رہا ہے، کیونکہ ان پلانٹس کے کپیسٹی چارجز بجلی کے بلوں میں شامل کیے جاتے تھے۔