بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں دنیا کی بڑی طاقتوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل، روس اور امریکا عالمی انسانی حقوق کی تباہی میں سب سے آگے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک ایسا عالمی ماحول تشکیل پا رہا ہے جہاں سفارت کاری کا وجود ختم ہو رہا ہے اور اس کی جگہ وحشیانہ جنگیں لے رہی ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل ایگنس کالا مارڈ نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر حکومتیں عالمی طاقتوں کے سامنے کھڑے ہونے کے بجائے مفاہمت یا مجرمانہ خاموشی اختیار کر رہی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ شہریوں کے قتلِ عام کو اب ایک ’معمول‘ بنایا جا رہا ہے، جو کہ انسانیت کے لیے خطرناک علامت ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 بین الاقوامی نظام سے واضح انحراف کا سال ثابت ہوا، جس سے ہولوکاسٹ اور عالمی جنگوں کے بعد گزشتہ 80 برسوں کے دوران محنت سے بنایا گیا انسانی حقوق کا ڈھانچہ بکھر کر رہ گیا ہے۔
ایگنس کالا مارڈ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ویٹو پاور کا مسلسل غلط استعمال عالمی نظام کو مفلوج کر رہا ہے اور انسانی جانوں کی قدر و قیمت مسلسل کم ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو “شکاری” قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ تینوں رہنما محض اپنے معاشی اور سیاسی غلبے کے حصول کے لیے کوشاں ہیں، جس کی قیمت معصوم انسانوں کے خون سے چکائی جا رہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فروری 2026 سے جاری ایران امریکا جنگ اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت نے انسانی حقوق کے عالمی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔
21 اپریل 2026 تک کی صورتحال کے مطابق جہاں ایک طرف تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، وہیں دوسری طرف عالمی طاقتیں اپنے ہتھیاروں کی فروخت اور جغرافیائی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ 1945 میں قائم ہونے والا ’ورلڈ آرڈر‘ اپنی افادیت کھو چکا ہے، کیونکہ اب طاقتور ممالک اقوامِ متحدہ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی مرضی مسلط کر رہے ہیں۔ ایگنس کالا مارڈ کا بیان دراصل اس مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جو عالمی اداروں میں بڑی طاقتوں کے بلا روک ٹوک غلبے کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے۔