اسلام آباد، پنجاب، پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

اسلام آباد، پنجاب، پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کشمیر میں بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

 محکمہ  موسمیات کا بتانا ہے کہ راولپنڈی، لاہور، سیالکوٹ، گجرات، ننکانہ صاحب، فیصل آباد، میانوالی، ملتان میں بادل برسیں گے جبکہ خیبرپختونخوا کے شہروں  پشاور، سوات، چترال، ہری پور، صوابی، کوہاٹ، لکی مروت میں بھی بارش کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بارشوں کا الرٹ ، لاہور، راولپنڈی اور گوجرانوالہ میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

موسم کا حال بتانے والوں کا کہنا ہے کہ سندھ کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور حبس رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے تاہم کراچی میں بوندا باندی اور ہلکی بارش کے امکانات کے ساتھ مطلع زیادہ تر ابر آلود رہ سکتا ہے۔

شام کے اوقات میں تھرپارکر،عمر کوٹ اور ساحلی علاقوں میں بارش متوقع ہے، دیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ، کوہستان، ایبٹ آباد، کرک، ہنگو کے برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا ، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

محکمہ موسمیات کے مطابق  کشمیر، مری اور گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی امکان ہے۔

دوسری جانب گلگت بلتستان حکومت نے سیلابی تباہی سے دوچار 8 اضلاع کے 37 دیہات کو آفت زدہ قرار دے دیا۔

گزشتہ روز محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آفت زدہ قرار دیے جانے والے علاقوں میں گلگت کے 9، دیامر 12، غذر 5، اسکردو 4، گانچھے 2، شگر 3، نگر اور کھرمنگ ضلعے کے ایک ایک گاؤں کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق جن علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا ہے ان میں انسانی جانوں کے نقصانات کے ساتھ گھروں اور فصلوں کے ساتھ انفر ا اسٹرکچر کی تباہی ہوئی ہے، اس بنیاد پر 8 اضلاع کے 3 درجن مقامات کو حاصل اختیارات کے تحت حکومت نے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا ہے۔

گلگت بلتستان حکومت نے 20 جولائی سے قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 15 سے 20 ارب روپے بتایا ہے جبکہ اب تک 10 افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور ایک درجن افراد لاپتہ ہیں اور سیلاب میں سیاحوں سمیت مقامی لوگوں کی 20 سے زائد گاڑیاں بھی سیلاب میں بہہ گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : 26 نومبر احتجاج: عارف علوی، گنڈاپور سمیت 50 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری

گلگت بلتستان حکومت نے سیلاب سے ہونے والے مالی و جانی نقصانات کے تناظر میں ندی نالوں اور دریا کنارے قبضہ کرکے مکانات اور عمارتیں بنانے والے افراد کو سیلابی نقصانات کا معاوضہ نہ دینے اور مسقبل میں اس کی روک تھام کے لیے قانون سازی کا اعلان کیا ہے۔

گلگت بلتستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے جائزے کے لیے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے رابطے پر وزیراعظم شہباز شریف 4 اگست کا دودہ کریں گے، جس میں وزیراعظم کی طرف سے اہم مالی

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *