امریکہ ایران کا اقتصادی محاصرہ جاری رکھے گا ؟جے ڈی وینس کا بڑا دعوی سامنے آ گیا

امریکہ ایران کا اقتصادی محاصرہ جاری رکھے گا ؟جے ڈی وینس کا بڑا دعوی سامنے آ گیا

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ پیش رفت اور کشیدگی میں کمی کے باوجود تہران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھا جائے گا اور جب تک ایران اپنے رویے میں بنیادی تبدیلی نہیں لاتا اس کے خلاف سخت اقتصادی محاصرہ جاری رہے گا۔

وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس نے بتایا کہ گزشتہ رات آبنائے ہرمز کے ذریعے ایک کروڑ 25 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی اور ایران کی جانب سے کسی بھی بحری جہاز کو نہیں روکا گیا۔ امریکا ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری چاہتا ہے، تاہم اگر تہران نے مثبت طرزِ عمل اختیار نہ کیا تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک کے تحت 60 روزہ مدت کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔ اس دوران دونوں فریق حتمی مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے اور اگر کوئی کشیدگی پیدا ہوئی تو اسے سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دو ماہ بعد کی صورتحال کا فیصلہ بھی انہی مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کی بنیاد پر ہوگا۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکا اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، جے ڈی وینس

جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ امریکا بعض پابندیوں میں نرمی یا انہیں ختم کرنے کے لیے کانگریس کی منظوری کا پابند نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں میں نرمی کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ ایران مالی معاملات اور عالمی لین دین کو کس انداز میں سنبھالتا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ پابندیوں میں ممکنہ نرمی کو امریکا کی جانب سے کوئی بڑی رعایت تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسرائیل اور لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ بیروت میں شہری آبادی پر حملے واشنگٹن کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ امن عمل کا احترام کرے اور لبنان سے متعلق طے شدہ معاہدوں کی پاسداری کرے۔

ایران کے حوالے سے جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور اسے دوبارہ فعال کرنے کے لیے تہران کو بھاری مالی وسائل درکار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی کوشش ہوگی کہ ایران دوبارہ جوہری پروگرام شروع نہ کر سکے جبکہ ایرانی میزائل صلاحیتوں کو بھی خطے کے لیے خطرہ بننے سے روکا جائے گا۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کے یورینیم کی روس منتقلی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں، جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ اگرچہ بعض حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ ایران اپنا رویہ تبدیل نہیں کرے گا لیکن موجودہ حالات میں تہران کو عالمی نظام میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک بھی موجودہ امریکی حکمت عملی اور ایران کے ساتھ طے پانے والے نئے فریم ورک کی حمایت کر رہے ہیں۔

editor

Related Articles