ایران کے یورینیم کی روس منتقلی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں، جے ڈی وینس

ایران کے یورینیم کی روس منتقلی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں، جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے یورینیم کو روس منتقل کرنے سے متعلق اس وقت کسی بھی منصوبے پر غور نہیں کیا جا رہا۔ یہ بات انہوں نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہی جہاں انہوں نے مختلف داخلی اور خارجہ امور پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے نے بتایا کہ امریکا اس وقت مختلف محکموں میں مبینہ فراڈ سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے جبکہ ایران کے معاملے پر اہم سفارتی پیش رفت بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح پالیسی ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کے معاملے پر کافی پیش رفت کی ہے اور صدر ٹرمپ جنگ دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہتے، تاہم ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی دوبارہ بھی کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق صدر نے انہیں ایران کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ہدایت دی تھی۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ پاکستان جا چکے ہیں جہاں ایران کے معاملے پر اکیس گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی نیت واضح تھی اور اسی وجہ سے طویل سفارتی بات چیت کی گئی تاکہ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا مثبت کردار، وزیرِاعظم، فیلڈ مارشل کو بہت زیادہ کریڈٹ دینا چاہتا ہوں، جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر کے مطابق ایرانی حکام بھی معاہدے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم جب تک باضابطہ دستخط نہیں ہو جاتے، کسی نتیجے کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام مزید آگے بڑھا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں، کیونکہ ایسی صورت میں خطے کے دیگر ممالک بھی اسی سمت جا سکتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر عدم استحکام اور کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے

editor

Related Articles