ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان ہفتے کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں، لاہور ایئر پورٹ پر مسلم لیگ ن (پی ایم ایل این) میاں محمد نوازشریف کی سربراہی میں مہمان کا شاندار استقبال کیا گیا، ان کے سرکاری دورے کا مقصد پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت، اقتصادی تعاون اور علاقائی امن کو فروغ دینا ہے۔
صدر پیزشکیان کا لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ ایرانی صدر کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا تجارتی وفد بھی ہے، جس میں وزیر خارجہ سید عباس عراقچی، سینیئر وزرا اور اعلیٰ حکومتی عہدیداران بھی شامل ہیں۔
اپنے دورے کے دوران، صدرمسعود پیزشکیان نے لاہور میں مزارِ اقبال پر حاضری دی، جس کے بعد وہ اسلام آباد روانہ ہو گئے، جہاں وہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
تجارت، سرحدی سلامتی اور سی پیک پر توجہ
تہران سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پیزشکیان نے زور دیا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں سرحدی سلامتی، بارڈر مارکیٹس کی بہتری اورعلاقائی روابط پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) میں فعال شرکت کا خواہاں ہے، جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق سی پیک ایران کو یورپ تک رسائی کا ایک اہم ذریعہ فراہم کر سکتا ہے۔
ایرانی صدر نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
اسلامی اتحاد اورعلاقائی استحکام کے عزم کا اظہار
صدرمسعود پیزشکیان نے پاکستان کے ساتھ اسلامی اتحاد کے لیے ایران کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔ انہوں نے مسلم ممالک کے درمیان بھائی چارے اور اتحاد کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا ایران کا دورہ
صدرمسعود پیزشکیان کا یہ دورہ وزیراعظم شہباز شریف کے 26 مئی 2025 کے دورۂ ایران کے بعد ہو رہا ہے، جس دوران انہوں نے بشمول رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر کو پاکستان کی علاقائی صورتحال، خصوصاً بھارت کے ساتھ تنازع اور بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے آگاہ کیا اور ایران کی پاکستان کے مؤقف کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے شہباز شریف کی علاقائی امن و استحکام کے لیے کوششوں اور ایران، پاکستان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی ذاتی دلچسپی کو سراہا۔
خطے میں باہمی تعاون کا نیا باب
صدرمسعود پیزشکیان کا یہ دورہ پاکستان، ایران تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے، جس میں اقتصادی انضمام، توانائی تعاون اور علاقائی استحکام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سیکیورٹی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق نئے معاہدوں پر بات چیت متوقع ہے۔
یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کے فروغ اور خطے میں باہمی مفادات کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔