ایف آئی اے نے بحریہ ٹاؤن کے مالیاتی ریکارڈ اور ادائیگیوں سے متعلق فائلز کی برآمدگی کے لیے کارروائی کرتے ہوئے چھاپہ مارا، جس کے دوران بے ضابطگیوں کی تحقیقات سے منسلک چھپائی گئی اہم دستاویزات ایک نجی فلاحی اسپتال کی عمارت سے برآمد کر لی گئیں۔
چھاپے کے دوران نیب کی ٹیم نے چھپائے گئے کمپیوٹرز، سرورز، ڈیجیٹل شواہد اور ڈیٹا بھی تحویل میں لے لیا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ تمام ریکارڈ ایک گیسٹ روم میں چھپایا گیا تھا، جب کہ اس ریکارڈ کی منتقلی کے لیے اسپتال کی نجی ایمبولینس استعمال کی جاتی تھی۔
بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے مبینہ طور پر اپنی کرپشن چھپانے کے لیے نجی اسپتال کو فرنٹ آفس کے طور پر استعمال کیا اور اہم ریکارڈ کو نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے اسپتال کو پناہ گاہ بنایا۔
ایف آئی اے ٹیم نے بحریہ ٹاؤن کے دفتر سے بھی کارروائی کے دوران اہم ریکارڈ قبضے میں لے لیا، جس میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مختلف منصوبوں سے متعلق فائلیں اور دیگر ضروری ریکارڈ شامل ہے۔