وفاقی حکومت نے ہر شہری کی ڈیجیٹل ڈیوائسز تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے اسمارٹ فونز کو آسان اقساط میں فراہم کرنے کی نئی پالیسی تیار کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی علم تک رسائی کو ممکن بنا سکتی ہے، اور ہماری نوجوان نسل، خصوصاً خواتین طلبہ، کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں نئے کیریئر کے مواقع تلاش کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کا آغاز حکومت کے وسیع ویژن کے مطابق کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسمارٹ فونز کی آسان اقساط میں فراہمی کے لیے پالیسی تیار کی جا رہی ہے تاکہ ڈیجیٹل ڈیوائسز ہر فرد کی پہنچ میں ہوں۔
شزا فاطمہ نے بتایا کہ ڈی جی اسکلز پروگرام کے تحت ایک سال میں ایک لاکھ نوجوانوں کو تربیت دی گئی، جبکہ رواں سال 10 لاکھ بچوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وجیہہ قمر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان میں ایس ٹی ای ایم فیڈ کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہیں، کیونکہ یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو نوجوانوں کے لیے زیادہ قابل رسائی اور دلچسپ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔