ویب ڈیسک۔ پنجاب پولیس کے رویے پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جب پاکپتن میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایک خاتون پر تشدد کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے۔ واقعے میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) بھی ملوث پایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ ایک چھاپے کے دوران پیش آیا، جس میں خاتون کو پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ بتایا گیا ہے کہ خاتون پر یہ تشدد کئی پولیس افسران کی موجودگی میں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، خاتون کے سسرالیوں نے پولیس کو بلایا تھا تاکہ اسے گھر سے زبردستی نکالا جا سکے، جس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس پر عوام کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) پاکپتن جاوید جاوید چدھڑ نے واقعے کا فوری نوٹس لیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت نےپولیس کی تنخواہیں پنجاب پولیس کے برابر کرنےکا فیصلہ کرلیا
ڈی پی او نے تشدد میں ملوث اے ایس آئی کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی۔
واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پہلے وردی پھر تھانے بدلے لیکن پنجاب پولیس کا رویہ نہ بدلا، پاک پتن میں پولیس کا نفری کے ہمراہ خاتون پر تشدد، مارپیٹ کی ویڈیو منظرِعام پر آگئی،گھر سے نِکلوانے کے لیے سُسرال نے پولیس سے تشدد کروایا،خاتون۔۔۔!!! pic.twitter.com/UiVOWS5mo8
— Mughees Ali (@mugheesali81) August 7, 2025

