عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں آج تیسرے روز بھی سونا مزید مہنگا ہوگیا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 5ڈالر کے اضافے سے 3ہزار 400ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی جمعہ کو سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان رہا۔
مقامی سطح پر 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 500روپے کے اضافے سے 3لاکھ 62ہزار 700 روپے کی سطح پر آگئی۔ اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 428روپے بڑھ کر 3لاکھ 10ہزار 956روپے کی سطح پر آگئی۔
ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 14روپے کے اضافے سے 4ہزار 073روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 12روپے کے اضافے سے 3ہزار 491روپے کی سطح پر آگئی۔
واضح رہے کہ پاکستان سمیت بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور کچھ بین الاقوامی فنانشل ادارے رواں سال اس قیمتی دھات کے نرخ مزید بڑھنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔
امریکہ کے فنانشل سروسز دینے والے ادارے گولڈمن ساچی کے مطابق ٹیرف کے علاوہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ مرکزی بینکوں خصوصا چین اور ابھرتی معیشتوں کی جانب سے زیادہ سونا خریدا جانا ہے۔
ماہرین یوکرین پر روسی حملوں کے بعد ماسکو کے اثاثوں کے منجمد ہونے کو بھی عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ گردانتے ہیں۔
دنیا بھرمیں سونے کے ذخائر کے حوالے سے امریکا پہلے نمبر پرہے جبکہ ایشیا میں یہ اعزاز چین کے پاس ہے،بھارت عالمی سطح پر آٹھویں اورایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے، پاکستان عالمی فہرست میں 49 ویں نمبر ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا، جرمنی اور اٹلی سونے کے ذخائر کے حوالے سرفہرست ہیں، ایشیاء میں چین اور بھارت سونے کے سب سے زیادہ ذخائر رکھتے ہیں۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں نے 2024ء میں 1,000 میٹرک ٹن سے زائد سونا خریدااور پچھلی دہائی کی اوسط سالانہ خریداری کے تقریباً دگنا کے برابر ہے۔
اسی وجہ سے مرکزی بینک سونے کے بڑے ذخیرہ کار ہیں، جو تاریخ میں کان کُنی کے ذریعے نکالے گئے مجموعی سونے کا تقریباً پانچواں حصہ رکھتے ہیں۔