وزیراعظم شہباز شریف نے پروٹیکٹڈ صارفین کے حوالے سے شکایات کا نوٹس لے لیا، اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائے گی جو پروٹیکٹڈ صارفین کی حد 301 یونٹ کرنے پر غور کرے گی۔
ذرائع وزارت توانائی و بجلی کے مطابق 201 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین 6 ماہ تک پروٹیکٹڈ کیٹگری سے نکل جاتے ہیں، صارفین کو پروٹیکٹڈ کیٹگری سے نکلنے کے بعد 6 ماہ تک تقریبا 5 ہزار روپے ماہانہ اضافی بل دینا پڑتا ہے۔
کمیٹی پروٹیکٹڈ کیٹگری کو 200 یونٹس تک محدود رکھنے یا 300 یونٹس تک ریلیف دینے پر رپورٹ تیار کرے گی، پروٹیکٹڈ کیٹگری 201 یونٹس کی بجائے 301 یونٹس تک کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع وزارت توانائی و بجلی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو صارفین بجلی سے ہونے والی زیادتی سے آگاہ کیا گیا کہ یہ صارفین سے زیادتی ہے کہ 200 سے زائد صرف ایک یونٹ پر اگلے چھ ماہ تک اضافی 5 ہزار روپے بل ادا کریں۔
پروٹیکٹڈ سلیب کے معاملے پر اعلی سطحی کمیٹی بنانے کا عندیہ دیا گیا ہے جس کے بعد کمیٹی سارے معاملے کا جائزہ لیکر کابینہ میں تجاویز پیش کرے گی، کمیٹی کی تجاویز پر 200 یونٹس والا معاملہ حل ہو سکے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 301 یونٹس استعمال پر نان پروٹیکٹڈ شرح لاگو ہونے کا امکان ہے، یہ تجویز بھی ہے کہ 201 یونٹ صرف اسی ماہ لاگو ہوں۔
وزارت توانائی کے ذرائع نے بتایا کہ 201 والی سلیب نیپرا اور وزارت پاور نے جان بوجھ کر لاگو کروائی تھی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی سستی کرنے کی منظوری دے دی، کمی کا اطلاق لائف لائن اور پری پیڈ صارفین پر نہیں ہوگا۔
نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 1.89 روپے فی یونٹ سستی کرنے کی منظوری دے دی ، نیپرا نے بجلی کی قیمت میں کمی کافیصلہ وفاقی حکومت کو ارسال کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ قیمت میں کمی اپریل تا جون 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں منظور کی گئی۔