دریائے ہنزہ میں طغیانی، شاہراہ قراقرم کا بڑا حصہ دریا برد،پاک چین زمینی رابطہ منقطع

دریائے ہنزہ میں طغیانی، شاہراہ قراقرم کا بڑا حصہ دریا برد،پاک چین زمینی رابطہ منقطع

شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے نتیجے میں بالائی ہنزہ کے علاقے مورخون میں دریا کی تند و تیز موجوں نے شاہراہ قراقرم کا ایک وسیع حصہ اپنے ساتھ بہا لیا، جس کے باعث پاکستان اور چین کو زمینی طور پر ملانے والا اہم راستہ منقطع ہو گیا۔

صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق گلگت بلتستان میں دریا کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مورخون میں دریائی کٹاؤ کے باعث قراقرم ہائی وے کا ایک اہم ٹکڑا دریا میں شامل ہو گیا جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔

اس صورت حال کے پیش نظر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے فوری طور پر شاہراہ کی مرمت اور بحالی کی ہدایات جاری کی ہیں اور متعلقہ محکموں کی ٹیمیں مورخون کی طرف روانہ کر دی گئی ہیں تاکہ جلد از جلد راستے کو بحال کیا جا سکے۔

یہ خبربھی پڑھیں :مون سون بارشوں کے چھٹے اسپیل کا الرٹ جاری، دریاؤں میں سیلاب کا خدشہ

مزید برآں ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ اسکردو کے علاقے زھوق کچورا میں ایک کشتی کے الٹنے کے بعد لاپتہ ہونے والے سیاحوں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

فیض اللہ فراق نے یہ وضاحت بھی کی کہ جھیلوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے سبب کشتی رانی پر مکمل پابندی عائد ہے اور دفعہ 144 نافذ کی جا چکی ہے۔

اس کے باوجود جو افراد سیاحوں کو کشتی میں بٹھا کر جھیل میں لے جا رہے ہیں ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

editor

Related Articles