خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں کے خلیفہ گل نواز ہسپتال میں نرس کی مبینہ خودکشی کی رپورٹ نے اربوں روپے کے اخراجات کے باوجود ہسپتال کے مالی و انتظامی امور میں بدانتظامی کو بے نقاب کر دیا۔ انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ہسپتال میں نہ تو سینکڑوں ملازمین کا کوئی ریکارڈ موجود ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
خلیفہ گل نواز ہسپتال ایم ٹی آئی میں 14 جون 2025 کو ٹرینی نرس الفت انور نے مبینہ طور پر ہراسانی کے باعث زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد صوبائی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا، جس پر چار رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز، ہسپتال ڈائریکٹر، میڈیکل ڈائریکٹر اور قائم مقام نرسنگ ڈائریکٹر کو غیر ذمہ دار اور نااہل قرار دے دیا۔
آزاد ڈیجٹیل کو موصول رپورٹ کے مطابق، الفت انور کے بھائی نے ہسپتال کے کوالٹی ایشورنس منیجر عتیق الرحمن کو ایف آئی آر میں نامزد کیا۔ ان کا فون نمبر بند ہونے کی وجہ سے ان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔ ہسپتال ریکارڈ کے مطابق، عتیق الرحمن کو اپریل 2022 میں مختلف شعبوں میں بہتری اور آئی ایس او سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے تعینات کیا گیا تھا، لیکن دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود انہوں نے ہسپتال کی بہتری کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے، جبکہ ان کی کارکردگی مایوس کن رہی۔
مزید یہ کہ عتیق الرحمن بنوں میں پی ایچ ایس اے کے نرسنگ کالج میں تدریسی فرائض بھی انجام دیتے رہے، حالانکہ خواتین کے کالج میں مرد اساتذہ کی تدریس کے لیے کوئی پالیسی یا اجازت نامہ موجود نہیں، جبکہ کالج کے پاس خواتین فیکلٹی کی بڑی تعداد دستیاب ہے۔ رپورٹ کے مطابق، عتیق الرحمن کا الفت انور سے رابطہ رہا اور وہ ان سے تعلیمی معاملات پر مشاورت کرتی تھیں۔ مرحومہ کے بھائی نے پولیس کو واٹس ایپ پیغامات کی مکمل تفصیلات فراہم کر دی ہیں۔ پولیس نے کیس کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی ہے، جس نے دوبارہ پوسٹ مارٹم بھی کیا۔
انکوائری رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ صوبے کے اس بڑے ایم ٹی آئی ہسپتال، جو بنوں ڈویژن کی ضروریات پوری کرتا ہے، میں سرجیکل، نیوروسرجیکل، پیڈز اور میڈیکل آئی سی یوز موجود نہیں۔ صرف 7 بیڈز پر مشتمل جنرل آئی سی یو فعال ہے جو کہ ناکافی ہے۔ ایمرجنسی وارڈ میں نہ زہر کے علاج کی کوئی دوا دستیاب ہے اور نہ ہی تربیت یافتہ ڈاکٹر تعینات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ہسپتال کے مختلف شعبوں میں روابط کا فقدان ہے اور ملازمین کے ریکارڈ تک رسائی ممکن نہیں۔ کمیٹی نے عتیق الرحمن کی تعیناتی کا اشتہار، انٹرویو میں شامل تمام امیدواروں کی فہرست اور تقرر نامہ طلب کیا، جو ہسپتال انتظامیہ فراہم نہ کر سکی۔ جب واقعے کے بعد کی گئی کارروائی کے بارے میں پوچھا گیا تو بتایا گیا کہ عتیق الرحمن کو معطل کر دیا گیا ہے، لیکن معطلی کا تحریری حکم نامہ بھی دستیاب نہیں تھا۔
کمیٹی نے بورڈ آف گورنرز کو غیر ذمہ دار، جبکہ میڈیکل ڈائریکٹر، ہسپتال ڈائریکٹر اور نرسنگ ڈائریکٹر کو نااہل قرار دیا۔ مزید برآں، گریڈ 19 کی نرسنگ ڈائریکٹر کی پوسٹ پر مستقل افسر کی بجائے ناتجربہ کار چارج نرس کو اضافی چارج دیا گیا ہے، جن کا تعلیمی پس منظر بھی معیاری نہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ صوبے میں “پروونشل پوائزن کنٹرول اینڈ ڈرگ انفارمیشن سینٹر” قائم کیا جائے، تمام ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں ہر قسم کے زہر کی ادویات اور تربیت یافتہ ڈاکٹرز کی تعیناتی یقینی بنائی جائے، خواتین کو ہراسانی سے بچاؤ کے قوانین سے متعلق آگاہی سیمینارز منعقد کیے جائیں اور ہراسمنٹ روکنے کے لیے باضابطہ فورم تشکیل دیا جائے۔
رابطہ کرنے پر وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صحت احتشام خان نے بتایا کہ وہ جلد مذکورہ ہسپتال کا دورہ کریں گے اور انکوائری رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال کے بی او جی سے بھی پوچھ گچھ ہوگی اور ہسپتال میں کی جانے والی خریداریوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی گئی ہیں۔