موٹر سائیکل سواروں کی موجیں، ایندھن سبسڈی کے لیے ادائیگیاں آج سے شروع

موٹر سائیکل سواروں کی موجیں، ایندھن سبسڈی کے لیے ادائیگیاں آج سے شروع

وفاقی حکومت نے مہنگائی کے ستائے موٹر سائیکل اور رکشہ سواروں کو ایندھن کی قیمتوں میں بڑا ریلیف دینے کے لیے باقاعدہ موبائل ایپلیکیشن لانچ کر دی ہے، جس کے تحت سبسڈی کی ادائیگیاں آج ہی سے شروع ہوں گی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت منعقدہ فیول سبسڈی اسکیم کی نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں آئی ٹی، پیٹرولیم حکام اور تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے شرکت کی جس میں سبسڈی سے متعلق باقاعدہ ایپ لانچ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:سستا پیٹرول (سبسڈی) کی فراہمی کیلئے آن لائن درخواستوں کا آغاز، طریقہ کار سامنے آگیا

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق، ابتدائی مرحلے میں یہ سبسڈی صرف 70 سی سی موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے لیے مخصوص کی گئی ہے، جبکہ 70 سی سی سے زیادہ کی موٹر سائیکلیں اس اسکیم کے تحت اہل تصور نہیں ہوں گی۔

اہل قرار دیے جانے والے سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کی رعایت فراہم کی جائے گی۔ شہری اس مخصوص موبائل ایپ پر اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کر کے فوری طور پر اپنی اہلیت چیک کر سکتے ہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ سبسڈی کے اس نظام کو سادہ اور شفاف بنایا جائے تاکہ عام آدمی کو ریلیف حاصل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔

انہوں نے اسکیم کی بھرپور تشہیر کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقوں کے شہریوں کو بھی اس سے مستفید ہونا چاہیے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ادائیگیوں کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں:پیٹرول مہنگا، موٹر سائیکل پر سبسڈی کیلئے موبائل ایپلیکیشن تیار ، ذرائع

جبکہ کسانوں کو ڈیزل اور ایندھن میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی جلد نئی اسکیم متعارف کرائی جائے گی۔ 7 اپریل 2026 کی یہ پیش رفت غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک بڑا معاشی سہارا ثابت ہوگی۔

حکومتِ پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے غریب طبقے کو بچانے کے لیے ’ ٹارگٹڈ سبسڈی‘ کے منصوبے پر کام کر رہی تھی۔

اسحاق ڈار کی قیادت میں بننے والی اس اسکیم کا مقصد صرف ان افراد تک ریلیف پہنچانا ہے جو موٹر سائیکل یا رکشہ بطور سواری استعمال کرتے ہیں۔ اس سے قبل بھی ایسی تجاویز زیرِ غور تھیں لیکن اب موبائل ایپ اور ڈیجیٹل ڈیٹا (شناختی کارڈ) کے ذریعے اسے عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی بدعنوانی کا راستہ روکا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *