بیس سالہ نوجوان نے 400 لوگوں کے ساتھ ملکرنیا ملک بنا لیا، 400 پاسپورٹ جاری کردئیے

بیس سالہ نوجوان نے  400 لوگوں کے ساتھ ملکرنیا ملک بنا لیا، 400 پاسپورٹ جاری کردئیے

ایک نوجوان   نے حیران کن طور پر ایک خودمختار ملک قائم کرنے کا اعلان کر کے دنیا کو چونکا دیا ہے۔ ڈینیئل جیکسن نامی اس نوجوان نے تقریباً 400 افراد پر مشتمل ایک کمیونٹی کو یکجا کر کے  فری ریپبلک آف ورڈیس  کے نام سے ایک نیا ملک تشکیل دیا ہے  جسے پہلے  پاکٹ تھری  کے طور پر جانا جاتا تھا۔

ڈینیئل ج نے خود کو اس نئے ملک کا صدر قرار دیا اور سوشل میڈیا پر اس اقدام نے تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔ یہ ملک   دریائے ڈینیوب کے کنارے ایک غیر زیرِ انتظام علاقے میں قائم کیا گیا  جو کروشیا اور سربیا کے درمیان واقع ہے۔

یہ علاقہ تقریباً 125 ایکڑ پر محیط ہے جہاں فری ریپبلک آف ورڈیس کے باشندوں کا اپنا جھنڈا، کرنسی اور کابینہ موجود ہے یہاں کی سرکاری زبانوں میں کروشین، سربین اور انگریزی شامل ہیں۔

پاکٹ تھری کے نام سے پہچانے جانے والے اس علاقے کی سیاسی حیثیت کافی پیچیدہ ہے، کیونکہ یہ کروشیا اور سربیا کے درمیان ایک متنازعہ خطہ ہے۔ ڈینیئل جیکسن کے اس ملک کے اعلان پر کروشیا نے سخت ردعمل دیا اور اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ڈینیئل کو گرفتار کر لیا۔

 

یہ نیا ملک اور اس کے سربراہ کی خود ساختہ حکومت نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی کافی توجہ حاصل کی ہے، اور اس واقعے کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔

یہ زمین، جسے  پاکٹ تھری  کے نام سے بھی جانا جاتا ہے  کروشیا-سربیا کے سرحدی تنازعے کی وجہ سے لاوارث ہے  ورڈیس ای ریذیڈنسی کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے، جس سے عالمی درخواست دہندگان کاروبار رجسٹر کر کے اس کی ڈیجیٹل معیشت میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم  پس منظر کی جانچ لازمی ہے اور ٹیکس قوانین کا نفاذ جاری ہے۔

اگرچہ مبینہ طور پر ورڈیس میں 400 رہائشی موجود ہیں، اس کا مستقبل جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی شناخت پر منحصر ہے۔

اس نئے ملک “فری ریپبلک آف ورڈیس” نے آن لائن شہریت (ای ریذیڈنسی) کی سہولت بھی فراہم کی ہے  اس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر سے لوگ اس کی ڈیجیٹل معیشت میں حصہ لے سکتے ہیں اور ورڈیس کی شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، چاہے وہ خود وہاں موجود نہ بھی ہوں ۔

اب تک  ورڈیس نے تقریباً 15,000 سے زیادہ شہریت کی درخواستیں وصول کی ہیں اور تقریباً 400 سرکاری پاسپورٹ جاری کیے ہیں۔ اگرچہ یہ پاسپورٹ رسمی طور پر سفر کے لیے استعمال کرنے کی سفارش نہیں کی جاتی، تاہم یہ ایک شناختی دستاویز کے طور پر دیے جاتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *