ایک نوجوان نے حیران کن طور پر ایک خودمختار ملک قائم کرنے کا اعلان کر کے دنیا کو چونکا دیا ہے۔ ڈینیئل جیکسن نامی اس نوجوان نے تقریباً 400 افراد پر مشتمل ایک کمیونٹی کو یکجا کر کے فری ریپبلک آف ورڈیس کے نام سے ایک نیا ملک تشکیل دیا ہے جسے پہلے پاکٹ تھری کے طور پر جانا جاتا تھا۔
ڈینیئل ج نے خود کو اس نئے ملک کا صدر قرار دیا اور سوشل میڈیا پر اس اقدام نے تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔ یہ ملک دریائے ڈینیوب کے کنارے ایک غیر زیرِ انتظام علاقے میں قائم کیا گیا جو کروشیا اور سربیا کے درمیان واقع ہے۔
یہ علاقہ تقریباً 125 ایکڑ پر محیط ہے جہاں فری ریپبلک آف ورڈیس کے باشندوں کا اپنا جھنڈا، کرنسی اور کابینہ موجود ہے یہاں کی سرکاری زبانوں میں کروشین، سربین اور انگریزی شامل ہیں۔
پاکٹ تھری کے نام سے پہچانے جانے والے اس علاقے کی سیاسی حیثیت کافی پیچیدہ ہے، کیونکہ یہ کروشیا اور سربیا کے درمیان ایک متنازعہ خطہ ہے۔ ڈینیئل جیکسن کے اس ملک کے اعلان پر کروشیا نے سخت ردعمل دیا اور اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ڈینیئل کو گرفتار کر لیا۔
Statement regarding $VERDIS and the funds raised through @BagsApp! Copied from my story on Instagram.
Response to @MrCool08 pic.twitter.com/ILai5qaZzb
— Daniel Jackson (@danieljacksonvs) August 9, 2025
یہ نیا ملک اور اس کے سربراہ کی خود ساختہ حکومت نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی کافی توجہ حاصل کی ہے، اور اس واقعے کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
یہ زمین، جسے پاکٹ تھری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کروشیا-سربیا کے سرحدی تنازعے کی وجہ سے لاوارث ہے ورڈیس ای ریذیڈنسی کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے، جس سے عالمی درخواست دہندگان کاروبار رجسٹر کر کے اس کی ڈیجیٹل معیشت میں شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم پس منظر کی جانچ لازمی ہے اور ٹیکس قوانین کا نفاذ جاری ہے۔
اگرچہ مبینہ طور پر ورڈیس میں 400 رہائشی موجود ہیں، اس کا مستقبل جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی شناخت پر منحصر ہے۔
— Daniel Jackson (@danieljacksonvs) August 4, 2025