کشیدہ علاقائی صورتحال، بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور امریکی ناکہ بندی کے باوجود پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکرز نے آبنائے ہرمز کو کامیابی سے عبور کر لیا ہے، جسے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی توانائی ترسیل کے تناظر میں بھی ایک اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
خبرایجنسی کے مطابق پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکر شالامار4 لاکھ 40 ہزار بیرل خام تیل لے کر بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے۔ یہ ٹینکر ابوظہبی سے کراچی کے لیے روانہ ہوا تھا اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ 19 اپریل کو کراچی بندرگاہ پہنچ جائے گا۔
ایسے نازک حالات میں اس نوعیت کی کامیاب ترسیل نہ صرف پاکستان کی توانائی سپلائی چین کے تسلسل کو یقینی بناتی ہے بلکہ بحری راستوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ موجودہ کشیدہ حالات کے باوجود ٹینکرز کی محفوظ آمد و رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ متبادل انتظامات اور حفاظتی اقدامات مؤثر انداز میں کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب عالمی توانائی ایجنسی (IEA) نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں توانائی کی پیداوار کی مکمل بحالی میں تقریباً دو سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ ادارے کے سربراہ کے مطابق خطے کے مختلف ممالک کو بحالی کے لیے مختلف مدت درکار ہوگی، کیونکہ ہر ملک کے انفراسٹرکچر، سیکیورٹی صورتحال اور پیداواری صلاحیت میں فرق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عراق کو تیل کی پیداوار بحال کرنے میں سعودی عرب کے مقابلے میں زیادہ وقت درکار ہو سکتا ہے، کیونکہ سعودی عرب کے پاس جدید سہولیات اور بہتر انفراسٹرکچر موجود ہے، جبکہ دیگر ممالک کو درپیش چیلنجز نسبتاً زیادہ پیچیدہ ہیں۔