اوپیک نے تیل کی عالمی طلب کا تخمینہ بڑھا دیا، امریکا سمیت غیر اوپیک ممالک کی سپلائی میں سست روی کی پیشگوئی

اوپیک نے تیل کی عالمی طلب کا تخمینہ بڑھا دیا، امریکا سمیت غیر اوپیک ممالک کی سپلائی میں سست روی کی پیشگوئی

پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) نے اپنے ماہانہ رپورٹ میں 2026 کے لیے عالمی تیل کی طلب کے تخمینے میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ غیر اوپیک، ممالک خاص طور پرامریکا سے پیداوار میں اضافے کی رفتار کم ہونے کی پیش گوئی کی ہے، جس سے آئندہ مہینوں میں تیل کی منڈی میں سختی کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اوپیک پلس ممالک کا جولائی میں تیل کی پیداوار میں زبردست اضافے کا اعلان

اوپیک کی رپورٹ کے مطابق 2026 میں عالمی سطح پر تیل کی طلب 13 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ بڑھے گی، جو پچھلے تخمینے کے مقابلے میں 1 لاکھ بیرل یومیہ زیادہ ہے۔ تاہم، 2025 کے لیے طلب کا تخمینہ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ پرامید پیش گوئی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اوپیک کو عالمی توانائی کی منتقلی کی رفتار سست دکھائی دے رہی ہے، جو بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) جیسے اداروں کے اندازوں سے مختلف ہے۔ ’آئی ای اے‘ رواں سال صرف 7 لاکھ بیرل یومیہ طلب میں اضافے کی پیش گوئی کرتا ہے۔

اوپیک نے یہ بھی کہا ہے کہ اوپیک اتحاد سے باہر، خاص طور پر امریکا کی جانب سے تیل کی پیداوار میں اضافے کی رفتار توقع سے کم ہوگی۔ امریکا کی ٹائٹ آئل (شیل آئل) کی پیداوار اب 2026 میں 1 لاکھ بیرل یومیہ کم ہونے کی توقع ہے، جب کہ گزشتہ ماہ اسے برقرار رہنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔

یہ طلب اور رسد کی نئی صورتِ حال اوپیک پلس کو اپنی پیداوار بڑھانے اور بازار میں اپنا حصہ دوبارہ حاصل کرنے کا موقع دے سکتی ہے، جو اس نے قیمتوں کو سہارا دینے کے لیے کئی سالوں تک پیداوار میں کمی کے ذریعے کھو دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پیداوار بڑھانے کا حالیہ فیصلہ جزوی طور پر امریکی شیل انڈسٹری کو چیلنج کرنے کے لیے بھی ہے، جو قیمتوں میں کمی اور اخراجات میں اضافے کے دباؤ کا شکار ہے۔

مزید پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد تک اضافہ

اوپیک نے 2025 کے لیے عالمی اقتصادی ترقی کا تخمینہ تھوڑا بڑھا کر 3.0 فیصد کر دیا ہے، جس کی وجہ بھارت، چین اور برازیل کی معیشتوں کی توقعات سے بہتر کارکردگی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے کچھ تجارتی معاہدوں پر دستخط کو قرار دیا گیا ہے۔

اوپیک نے کہا کہ ’”2025 کی دوسری ششماہی کے آغاز میں اقتصادی اعداد و شمار عالمی ترقی کی مضبوطی کی مزید تصدیق کرتے ہیں، حالانکہ امریکا مرکوز تجارتی کشیدگیوں اور وسیع تر جغرافیائی سیاسی خدشات کے باعث غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔”

رپورٹ کے اجرا کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 66 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہی، جو کہ اپریل میں 58 ڈالر کی چار سالہ کم ترین سطح تک گر گئی تھی۔

اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار بڑھانے کے فیصلے اور بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر، ماہرین کی نظریں اب اس پر ہیں کہ آیا تنظیم توازن برقرار رکھ پائے گی یا امریکی شیل انڈسٹری کے ساتھ مقابلے میں نئے چیلنجز کا سامنا کرے گی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *