خلیجی ملک کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک ہولناک عسکری حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔
کویتی حکام نے گزشتہ روز ہوائی اڈے پر ہونے والے اس حملے کی ایک انتہائی اہم اور حساس سرویلنس ویڈیو جاری کی ہے، جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ڈرون طیارہ ایئرپورٹ کے ‘ٹرمینل 1’ سے براہِ راست ٹکرایا۔
امریکی دفاعی نظام ’پیٹریاٹ‘ کی ناکامی کا انکشاف
کویتی حکام کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق ہوائی اڈے پر ہونے والی بڑے پیمانے کی تباہی دراصل ایرانی میزائل اور ڈرون کو فضا میں روکنے کی کوشش کے دوران ہوئی۔
🔴Moment of impact of the Shahed-136 suicide drone on Terminal 1 of Kuwait International Airport as seen from CCTV cameras
Note: This terminal, which was recently under reconstruction and upgrading of its technical systems, had just resumed operations from June 1 through a… pic.twitter.com/0XsOQz5NWq
— Angelo Giuliano 🇨🇭🇮🇹 (@angeloinchina) June 4, 2026
حکام نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ حملے کو ناکام بنانے کے لیے جب امریکی دفاعی نظام ’پیٹریاٹ‘ کو متحرک کیا گیا تو اس میں اچانک ایک بڑی تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی، جس کے نتیجے میں یہ دفاعی نظام حملے کو صحیح طریقے سے نہ روک سکا اور خود ایئرپورٹ کی حدود میں ہی تباہی کا باعث بن گیا۔
دوسری جانب ایران کی طاقتور عسکری فورس ’پاسدارانِ انقلاب‘ نے کویتی ہوائی اڈے پر ہونے والے اس حملے میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے اور ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
خلیجی خطے کی عسکری صورتحال اور کویت کا کردار
مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں گزشتہ چند سالوں سے ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال روایتی جنگوں سے ہٹ کر ایک نیا خطرہ بن کر ابھرا ہے۔ کویت تاریخی طور پر خطے کے تمام عسکری تنازعات میں ایک غیر جانبدار اور امن پسند ملک رہا ہے جو ہمیشہ برادر ممالک کے درمیان سفارتی حل کا حامی رہا ہے۔
تاہم، حالیہ عرصے میں خلیج کے پانیوں اور فضائی حدود میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں اب چھوٹے اور پرامن ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ کویت نے اپنی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے طویل عرصے سے امریکی ساختہ دفاعی نظام ’پیٹریاٹ‘ پر انحصار کر رکھا ہے، لیکن اس واقعے نے دفاعی نظاموں کی صلاحیت پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پروازوں کی معطلی اور ریسکیو آپریشن
کویتی سول ایوی ایشن کے مطابق حملے کے فوراً بعد ایئرپورٹ کے ‘ٹرمینل 1’ کو ہر قسم کی پروازوں کے لیے معطل کر دیا گیا اور تمام آنے اور جانے والے طیاروں کو عارضی طور پر دوسرے متبادل ٹرمینلز یا قریبی محفوظ فضائی اڈوں کی طرف موڑ دیا گیا۔
امدادی ٹیموں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے کئی گھنٹوں تک ریسکیو آپریشن کیا اور طبی حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے 12 افراد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔
کویتی حکومت نے اس واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کے لیے ایک خصوصی فوجی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو امریکی ماہرین کے ساتھ مل کر ’پیٹریاٹ‘ نظام کی ناکامی کی وجوہات کا باریک بینی سے جائزہ لے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور دیگر برادر ممالک نے کویت کی سلامتی پر ہونے والے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
واقعے کی سٹریٹجک اہمیت
واضح رہے کہ خلیج میں دفاعی حکمتِ عملی اب ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ سب سے اہم نقطہ کویت کی جانب سے امریکی دفاعی نظام ’پیٹریاٹ‘ کی خرابی کا کھلے عام اعتراف کرنا ہے۔
یہ بات واشنگٹن کے لیے ایک بڑا عسکری اور تجارتی دھچکا ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ’پیٹریاٹ‘ کو دنیا کا مہنگا اور جدید ترین دفاعی نظام سمجھا جاتا ہے۔ اس نظام کی ناکامی سے خطے کے دیگر خلیجی ممالک میں بھی تشویش کی لہر دوڑے گی جو اپنی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر امریکی ہتھیاروں پر بھروسہ کرتے ہیں۔
سفارتی اثرات اور ایران پر بڑھتا ہوا دباؤ
دوسری طرف کویت کی جانب سے فوری طور پر سرویلنس ویڈیو جاری کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ عالمی برادری کے سامنے ایران پر سفارتی دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔
اگرچہ ایران کے ’پاسدارانِ انقلاب‘ نے اس کی تردید کی ہے، لیکن ویڈیو اور شواہد کی موجودگی کے بعد تہران کے لیے عالمی سطح پر مشکلات میں اضافہ ضرور ہو جائے گا، جس سے کویت اور ایران کے سفارتی و تجارتی تعلقات طویل عرصے کے لیے شدید تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں۔