پاکستان کے مختلف علاقوں میں مون سون کی تازہ لہر شروع ہو چکی ہے، جس کے باعث شدید بارشوں کے ساتھ اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ 19 سے 22 اگست کے دوران پنجاب، خیبر پختونخوا، کشمیر اور بلوچستان کے کئی اضلاع میں موسلادھار بارشیں ہونے کا امکان ہے۔ بالائی پنجاب کے شہروں، جن میں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ شامل ہیں، میں شدید بارشوں کی توقع ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔ بلوچستان کے کچھ اضلاع جیسے قلات، خضدار، لسبیلہ اور تربت میں ندی نالوں میں طغیانی کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے، جو قریبی آبادیوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور برساتی نالوں یا پہاڑی علاقوں کے قریب احتیاط برتیں۔
ادھر صوبہ پنجاب کی پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا انتباہ جاری کیا ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 5 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے اور مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
پی ڈی ایم اے نے ڈیرہ غازی خان، بہاولپور ڈویژن اور تونسہ کی ضلعی انتظامیہ کو فوری اقدامات کی ہدایات جاری کرتے ہوئے متاثرہ آبادیوں کی فوری محفوظ مقامات پر منتقلی کا حکم دیا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق تمام مساجد میں اعلانات کے ذریعے لوگوں کو خبردار کیا جا رہا ہے، ریسکیو ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا ہے، اور فلڈ ریلیف کیمپس میں ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔