مصنوعی ذہانت سے نوکریاں خطرہ میں، ماہرین نے خبردار کر دیا

مصنوعی ذہانت سے نوکریاں خطرہ میں، ماہرین نے خبردار کر دیا

 ماہرینِ معاشیات کی نئی تحقیقی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت (AI) کو بڑے پیمانے پر انسانی ملازمتوں کے متبادل کے طور پر اپنایا گیا تو یہ معیشت میں ایک خودکار منفی چکر کو جنم دے سکتی ہے، جو بالآخر معاشی سست روی کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق ’’دی اے آئی لے آف ٹریپ‘‘کے عنوان سے شائع ہوئی ہے، جسے امریکہ کے معروف تعلیمی اداروں، وار ٹن سکول اوربوسٹن یونیورسٹی سے وابستہ ماہرین نے تیار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :خلا میں زمین جیسا ماحول،نیا خلائی اسٹیشن ڈیزائن سامنے آ گیا

مطالعے کے مطابق مسابقتی کاروباری ماحول میں کمپنیاں اخراجات کم کرنے کے لیے انسانی کارکنوں کی جگہ اے آئی(AI) سسٹمز کو ترجیح دیتی ہیں۔ جب ایک کمپنی ایسا کرتی ہے تو دیگر کمپنیاں بھی مقابلے میں رہنے کے لیے یہی راستہ اختیار کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع کم ہونے لگتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ ملازمتوں سے محروم ہونے والے افراد صرف کارکن ہی نہیں بلکہ صارف بھی ہوتے ہیں۔ چنانچہ جب روزگار کم ہوتا ہے تو لوگوں کی خریداری کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، مجموعی طلب میں کمی آتی ہے اور کمپنیاں مزید اخراجات کم کرنے اور آٹومیشن بڑھانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :بلیک بیری کی واپسی، نئی ٹیکنالوجی نے سب کو حیران کر دیا

تحقیق میں اس عمل کو ’’لے آف اور طلب کے فیڈ بیک لوپ‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جہاں انفرادی سطح پر کیے گئے کاروباری فیصلے مجموعی معیشت کے لیے منفی نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔

میڈیارپورٹ میں مختلف پالیسی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا، تاہم محققین کے مطابق زیادہ تر اقدامات اس مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کر پاتے۔ ان کے مطابق واحد مؤثر حل ’’آٹومیشن ٹیکس‘‘ ہو سکتا ہے، جس کے تحت ایسی کمپنیوں پر ٹیکس عائد کیا جائے جو انسانی ملازمین کی جگہ اے آئی(AI) سسٹمز استعمال کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ہیٹ ویو کا حل مل گیا،بجلی کے بغیر ٹھنڈک دینے والا سسٹم تیار

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی کسی بڑی معیشت نے ابھی تک اس نوعیت کا نظام وسیع پیمانے پر نافذ نہیں کیا، جبکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملازمتوں میں کمی اور آٹومیشن کے بڑھتے رجحانات اس بحث کو مزید اہم بنا رہے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اگر مناسب پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں معیشتیں زیادہ پیداوار کے باوجود کمزور صارف طلب کے مسئلے کا سامنا کر سکتی ہیں۔

editor

Related Articles