سانحہ 9 مئی میں ملوث دو مفرور ملزمان شیر شاہ اور شاہ ریز کی گرفتاری کے بعد ان سے متعلق چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں افراد پی ٹی آئی کی جانب سے 9 مئی 2023 کو جناح ہاؤس حملے اور جلاؤ گھیراؤ میں شریک تھے۔
ذرائع کے مطابق شیر شاہ خان کو پولیس نے 22 اگست 2025 کو پاکستان واپسی پر گرفتار کیا۔ ملزم شیر شاہ حملے کے وقت سزا یافتہ مجرم حسان نیازی کے ساتھ موجود تھا اور 9 مئی کے بعد روپوش ہوکر لندن فرار ہوگیا تھا۔ کئی مہینے پروپیگنڈے کی آڑ میں چھپنے کے بعد وہ ریاست کے خلاف ڈیجیٹل مہمات میں بھی سرگرم رہا۔ اس کے خلاف پہلے ہی 9 مئی کے حملے کا مقدمہ درج تھا۔ ملزم پر جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، پولیس وین کو آگ لگانے اور پولیس اہلکاروں پر حملوں کے الزامات ہیں۔ پولیس کے پاس جائے وقوعہ پر شیر شاہ کی موجودگی کے ویڈیو شواہد موجود ہیں۔ ملزم کا پولی گرافک ٹیسٹ سمیت دیگر تحقیقات کے لیے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ طلب کیا گیا ہے۔
دوسرے ملزم شاہ ریز کو بھی جناح ہاؤس حملے اور منصوبہ بندی کے الزام میں باقاعدہ گرفتار کیا گیا۔ شاہ ریز کا نام ستمبر 2023 کی ضمنی رپورٹ میں شامل تھا۔ اسے 21 اگست 2025 کو شواہد کی بنیاد پر گرفتار کرکے 22 اگست کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق شاہ ریز جائے وقوعہ پر جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تھا، جبکہ پولیس وینز کو بھی آگ لگائی گئی۔ پولیس نے شاہ ریز کے لیے بھی 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ہے۔
پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کی گرفتاری جیو فینسنگ اور ویڈیو شواہد کی بنیاد پر عمل میں آئی۔ گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست، عوام یا اداروں پر حملہ کرنے والا احتساب سے نہیں بچ سکتا۔
ذرائع کے مطابق دونوں بھائی قیادت کی آڑ میں کارکنوں کو چھوڑ کر روپوش رہے اور پاکستان کے خلاف ڈیجیٹل میڈیا سیل چلاتے رہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ملزمان کی گرفتار سے قبل عدالتوں سے ریمانڈ آرڈرز حاصل کیے گئے جو قانونی عملداری کا ثبوت ہیں۔