ایران امریکا کشیدگی، دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے سربراہان کی اہم بیٹھک، بڑے فیصلے

ایران امریکا کشیدگی، دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے سربراہان کی اہم بیٹھک، بڑے فیصلے

چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان اہم ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، عالمی امن، اقتصادی تعاون اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں جنگی ماحول کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور مزید کشیدگی بڑھانا دانشمندی نہیں ہوگی۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ دنیا ایک بار پھر جنگل کے قانون کی طرف جانے کے خطرے سے دوچار ہے اس لیے عالمی برادری کو امن، مذاکرات اور سفارتی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگوں کے خاتمے سے عالمی تجارت اور معیشت کو درپیش رکاوٹیں کم ہوں گی، جس سے دنیا بھر میں معاشی استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل سستا، کیا پاکستان میں بھی ریلیف ملے گا؟

شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور روس کے تعلقات غیر معمولی سطح تک پہنچ چکے ہیں اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ترقی اور استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق چین اور روس کے اقتصادی روابط مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

چینی صدر نے اس موقع پر روس کو مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے دوران ایک قابل اعتماد توانائی فراہم کنندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات عالمی استحکام اور توازن کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے عالمی سیاسی صورتحال، توانائی کی منڈیوں، تجارتی روابط اور خطے میں امن و سلامتی سے متعلق مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا

editor

Related Articles