پاکستان کی علاقائی تجارت میں ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) اور عالمی لاجسٹک کمپنی ڈی پی ورلڈ نے متحدہ عرب امارات سے تاجکستان تک تجارتی سامان کی پہلی کامیاب ترسیل مکمل کر لی ہے۔ یہ کامیابی پاکستان کو بین الاقوامی تجارتی راہداری کے مرکز کے طور پر ابھارنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔
حکام کے مطابق 38 ٹن آٹو موبائل اسپیئر پارٹس پر مشتمل تجارتی کھیپ جبل علی پورٹ (دبئی) سے کراچی پہنچی، جہاں سے این ایل سی نے اپنی جدید لاجسٹکس صلاحیتوں کے ذریعے یہ سامان تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے تک کامیابی سے پہنچایا۔ دبئی سے دوشنبے تک یہ سفر صرف 16 دنوں میں مکمل کیا گیا، جو علاقائی تجارت میں ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
یہ ترسیل اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ نظام (ٹی آئی آر) کے تحت کی گئی، جس نے سامان کی بغیر رکاوٹ نقل و حرکت کو یقینی بنایا۔ این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ کا یہ اشتراک خلیجی ممالک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان ایک نئی، محفوظ اور کم وقت میں مکمل ہونے والی تجارتی راہداری فراہم کر رہا ہے۔
این ایل سی نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جدید لاجسٹکس نظام اور علاقائی روابط کو مؤثر بنا کر پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ادارہ وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستانی بندرگاہوں تک تیز، محفوظ اور مختصر ترین راستہ فراہم کر رہا ہے، جو خطے کی معیشت کے لیے ایک نیا موقع ہے۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت 100 ملین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری بھی پاکستان میں لائی جا رہی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
این ایل سی اور ڈی پی ورلڈ کی یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کی تجارتی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے بلکہ یہ ملک کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی تجارتی کردار کا عملی ثبوت بھی ہے۔