بھارت کی آبی جارحیت سے دریاؤں میں طغیانی، اگلے 24 گھنٹے نہایت اہم، سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

بھارت کی آبی جارحیت سے دریاؤں میں طغیانی، اگلے 24 گھنٹے نہایت اہم، سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کے بعد ملک کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جبکہ قابض بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی شدید بارشوں کے نتیجے میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان کے مختلف علاقوں میں ممکنہ سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی ہے، جو اس وقت 4.5 سے 5 لاکھ کیوسک کے درمیان ہے۔ محکمہ آبپاشی کے ذرائع کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں میں یہ بہاؤ 6 لاکھ کیوسک تک جا سکتا ہے، جو نچلے درجے کے سیلاب کا سبب بن سکتا ہے۔

دریائے راوی پر جسرہ کے مقام پر پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ اس وقت 2 لاکھ 30 ہزار کیوسک کو چھو رہی ہے۔ آئندہ چند گھنٹوں میں اس میں مزید اضافے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق شاہدرہ اور موٹر وے M2 کے نیچے کے علاقے، خصوصاً EME سوسائٹی، پارک ویو وغیرہ ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔

جی ایس والا کے مقام پر بھی پانی کی آمد انتہائی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے اور مزید اضافے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جس سے نشیبی علاقوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ادھر بھارتی زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غیر معمولی بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ خصوصاً جموں، اُدھم پور، سانبہ اور کٹھوعہ کے علاقوں میں 500 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی ہے، جس کے باعث دریاؤں میں طغیانی کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

دوسری جانب جھنگ، شوکوٹ میں اونچے درجے کےسیلاب کے پیش نظر مساجد سے انتباہی اعلانات جاری ہیں اور ریسکیو اداروں کی جانب سے جھنگ کے نواحی علاقے پیر کوٹ سدھانہ کے رہائشی لوگوں کو استدعا  کی گئی ہے کہ فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہوں اسی طرح لاہور کے نواحی علاقوں کے لیے  این ڈی ایم اے کی جانب سے ہائی فلڈ وارننگ جاری کی گئی ہے اور ریسکیو اداروں کی جانب سےاعلانات کا سلسلہ جاری ہے۔

متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ عوام الناس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نشیبی علاقوں سے دور رہیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ہدایات پر فوری عمل کریں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *