پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر ترین رہنما فوزیہ حبیب انتقال کر گئیں، نمازِ جنازہ آج ہوگی

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر ترین رہنما فوزیہ حبیب انتقال کر گئیں، نمازِ جنازہ آج ہوگی

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما، سابق رکنِ قومی اسمبلی اور ایوانِ صدر کی سابق عہدیدار فوزیہ حبیب طویل علالت کے بعد انتقال کر گئی ہیں، جن کی نمازِ جنازہ آج 5 جولائی اتوار رات 10 بجے ایچ 8 قبرستان اسلام آباد میں ادا کی جائے گی۔

ان کے انتقال پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سمیت اعلیٰ سیاسی قیادت نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے پارٹی اور ملکی سیاست کے لیے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی نظریاتی اور متحرک رہنما فوزیہ حبیب وفات پا گئی ہیں۔ وہ طویل عرصے سے پارٹی کے لیے سیاسی و عوامی محاذ پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:سابق ایم پی اے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید ثاقب حسین شاہ انتقال فرما گئے

مرحومہ کی نمازِ جنازہ کے حوالے سے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ آخری رسومات آج 5 جولائی بروز اتوار رات 10 بجے وفاقی دارالحکومت کے ایچ 8 قبرستان میں ادا کی جائیں گی، جہاں سیاسی رہنماؤں، پارٹی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔

صدر آصف علی زرداری اور سیاسی قیادت کا خراجِ عقیدت

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے فوزیہ حبیب کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی وفات کو پاکستان پیپلز پارٹی اور ملکی سیاست کے لیے ایک بڑا خلا قرار دیا ہے۔

اپنے تعزیتی بیان میں صدر زرداری نے کہا کہ مرحومہ نے اپنی پوری سیاسی زندگی عوامی خدمت، جمہوریت کے استحکام اور پارٹی کے نظریات کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔

انہوں نے مرحومہ کے اخلاص کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک متحرک اور باصلاحیت رہنما تھیں جن کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

دوسری جانب چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بھی سابق رکنِ قومی اسمبلی کے انتقال پر دلی دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ فوزیہ حبیب کی وفات سے پارٹی ایک مخلص اور محنتی رہنما سے محروم ہو گئی ہے، ان کی سیاسی و عوامی خدمات کو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

ایوانِ صدر میں اہم خدمات

فوزیہ حبیب کا شمار پیپلز پارٹی کی ان خواتین رہنماؤں میں ہوتا تھا جنہوں نے آمریت کے ادوار میں جمہوریت کی بحالی کے لیے سخت جدوجہد کی۔

وہ نہ صرف قومی اسمبلی کی رکن رہیں بلکہ انہوں نے صدر آصف علی زرداری کے پہلے دورِ صدارت، جو 2008ء سے 2013ء تک جاری رہا، کے دوران ایوانِ صدر کے عملے کی ایک اہم رکن کے طور پر بھی فرائض انجام دیے۔

اس پانچ سالہ عرصے میں انہوں نے نہایت دیانتداری، لگن اور اعلیٰ پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض نبھائے، جس کی وجہ سے پارٹی قیادت اور ایوانِ صدر کا عملہ آج بھی ان کی کارکردگی کی تعریف کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سردار سکندر حیات خان کا انتقال ہو گیا

فوزیہ حبیب کا انتقال پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے ایک ایسے وقت میں بڑا دھچکا ہے جب پارٹی کو وفاق اور صوبوں میں اپنے پرانے اور وفادار تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

فوزیہ حبیب جیسی نظریاتی خواتین رہنماؤں نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے نظریے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ایوانِ صدر میں 2008 سے 2013 کے مشکل ترین سیاسی دور کے دوران ان کی موجودگی اور انتظام کاری ان کی سیاسی پختگی کا ثبوت تھی۔

ان کی رحلت سے پیپلز پارٹی اسلام آباد اور مرکز میں ایک ایسی آواز سے محروم ہو گئی ہے جو پارٹی قیادت اور کارکنوں کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کرتی تھی۔

اہلِ خانہ کے لیے دعائے مغفرت

صدرِ مملکت اور چیئرمین سینیٹ نے مرحومہ کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور پیپلز پارٹی کے سوگوار کارکنوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

قیادت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ فوزیہ حبیب کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام اور مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Related Articles