تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی سطع میں اضافہ، دریائے چناب کا بڑا ریلہ جھنگ میں داخل،

تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی سطع میں اضافہ، دریائے چناب کا بڑا ریلہ جھنگ میں داخل،

دریاے چناب میں سیلابی پانی کا برا ریلا جھنگ میں داخل جہاں تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کا دباو کم کرنے کے لیے جھنگ کے ریوازبرج کے قریب دھماکا کرکے شگاف ڈال دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق تریموں ہیڈ ورک پر سیلاب کا زور کم کرنے کے لیے ریلوے ٹریک پر دھماکا کرکے شگاف ڈال دیا گیا جس سے سیلاب قریبی دیہات میں داخل ہوگیا۔ دوسری جانب سیلابی ریلے نے چنیوٹ میں 100 گاؤں ڈبودیے، جھنگ چنیوٹ روڈ پانی میں ڈوبنے سے 119 دیہات زیر آب آگئے، لوگ بچا کچھا سامان اٹھا کر پانی میں چلتے ہوئے محفوظ مقامات کی طرف نکل پڑے۔

سرگودھا کےعلاقے کوٹ مومن میں 40 سےزائد گاؤں سیلابی ریلوں سےمتاثر ہوئے، چناب کے سیلاب سے حافظ آباد کے متعدد دیہات زیرآب آگئے، درجنوں دیہاتوں کا زمینی رابطہ شہر سےکٹ گیا۔

عارف والا میں بھی بند ٹوٹنے سے متعدد بستیاں ڈوب گئيں، بہاول نگر میں دریائی بیلٹ سے جڑے 104 دیہاتوں میں سیلاب آگیا، بہاول پور میں زمیندارہ بند ٹوٹنے سے سیکڑوں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہوگئیں، وہاڑی سے 80 دیہاتوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پرمنتقل کردیا گيا۔

حافظ آباد کے کچھ دیہاتوں میں 11 فٹ تک پانی کی سطح ریکارڈ کی گئی، دریائے چناب سے صرف 6 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا بھی امتحان بن گيا، حافظ آباد کے 70 دیہات میں سیلابی پانی سے جلدی امراض پھوٹ پڑے۔

فیصل آباد میں تاندلیانوالہ کے مقام پردریائے راوی میں پانی کی سطح میں اضافے کے باعث نشیبی علاقوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔ سیلاب کےپیش نظرضلعی انتظامیہ اورمتعلقہ ادارے الرٹ ہیں جبکہ مائی صفوراں بند میں شگاف لگانے کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں ہیں۔

ڈپٹی کمشنر راجن پور شفقت اللہ مشتاق کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے،نشیبی علاقوں سےلوگوں کی محفوظ مقامات پرمنتقلی جاری ہے، دریائے سندھ کے قریب فلڈ ریلیف کیمپس قائم کردیے گئے ہیں۔

شفقت اللہ نے کہا کہ محکمہ صحت، لائیو اسٹاک اور ریسکیو ٹیمیں متحرک ہیں، حفاظتی بندوں کی مضبوطی کے لیے کام جاری ہے،پولیس کا کچے کے علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ دوسری جانب ملتان میں دریائے چناب کا خطرناک ریلا 24 سے 48 گھنٹوں میں شہر کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے، شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر بریچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو حکام، مقامی رضا کاروں، پاک فوج اور پاکستان رینجرز کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی گزشتہ روز سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی آپریشنز کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *