امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے خلاف سخت تجارتی اقدامات اٹھا کر امریکا-بھارت تعلقات میں اچانک تناؤ پیدا کر دیا ہے، جو گزشتہ تین دہائیوں سے قائم دوطرفہ شراکت داری کے برعکس ایک نیا موڑ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مودی سرکار میں ویزا بحران، امریکا کی بھارت سے اسٹریٹجک تعلقات کی حقیقت کھل گئی
بدھ کے روز ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت سے درآمد کی جانے والی کئی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔ اس فیصلے کو بھارت کے روس سے تیل کی خریداری پر’سزا‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ خریداری یوکرین پر روس کے حملے کو بالواسطہ طور پر تقویت دے رہی ہے۔
یہ اقدام ان طویل المدتی امریکی کوششوں کے برعکس ہے جن کے ذریعے واشنگٹن نے بھارت کو چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف ایک جمہوری اتحادی کے طور پر پروان چڑھایا۔ 1990 کی دہائی سے امریکی صدور نے دہلی کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کو ترجیح دی، حتیٰ کہ بعض اختلافات کو بھی نظرانداز کیا۔
اسی دوران، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس ہفتے کے آخر میں چین کے دورے پر جا رہے ہیں، ایک ایسا فیصلہ جو اب بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے بھارت کو امریکا پر انحصار پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی ماہر تنوی مدن نے کہاکہ ’ یہ صرف ٹیرف، روس یا تیل کا معاملہ نہیں ہے۔ یہاں کچھ ذاتی نوعیت کا بھی ہے، شاید ٹرمپ بھارت سے ناراض ہیں اور مودی کے لیے یہ معاملہ اب سیاسی رخ اختیار کر چکا ہے‘۔
ٹرمپ کے سابق تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے تو بلومبرگ ٹی وی پر یہاں تک کہہ دیا کہ یوکرین کی جنگ دراصل ’مودی کی جنگ‘ ہے، جس سے دہلی میں شدید ردعمل پیدا ہوا۔
یہ کشیدگی اس وقت اور نمایاں ہو گئی جب ٹرمپ اور مودی کے تعلقات کبھی خاصے دوستانہ سمجھے جاتے تھے۔ 2020 میں، ٹرمپ نے بھارت کا دورہ کیا جہاں مودی نے انہیں دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ اسٹیڈیم میں 1,20,000 افراد کے سامنے خوش آمدید کہا۔
مزید پڑھیں:بھارت کی تجارتی پالیساں عالمی امن کے لیے خطرہ، امریکا خاموش نہیں رہے گا، سینیئر امریکی قونصلر پیٹر نوارو
تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ تعلقات سرد پڑ گئے۔ ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی خواہش ظاہر کی، اور دعویٰ کیا کہ ان کی سفارت کاری نوبیل انعام کے قابل تھی۔ بھارت، جو کشمیر پر کسی تیسرے فریق کی مداخلت کو سختی سے مسترد کرتا ہے، نے اس پر ٹرمپ کو نظر انداز کر دیا۔ اس کے برعکس، پاکستان نے ٹرمپ کی توجہ کو سراہا اور اس کے فوجی سربراہ نے وائٹ ہاؤس میں ان سے ملاقات بھی کی۔
سابق صدر جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے ٹرمپ کے اس اقدام کو دہائیوں پر مبنی دو جماعتی اتفاقِ رائے کی خلاف ورزی قرار دیا۔
سلیوان نے دی بُلورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اب بھارت سوچ رہا ہے کہ شاید ہمیں بیجنگ جانا چاہیے اور چینیوں سے بات کرنی چاہیے، کیونکہ ہمیں امریکا کے خلاف بھی متبادل رکھنا ہوگا‘۔
تنوی مدن نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے یہ اقدامات امریکا کے اس دعوے کے منافی ہیں کہ وہ، چین کے برعکس، بھارت کے ساتھ معاشی تعلقات کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرے گا۔
’اگر آپ بھارت ہیں، تو چاہے آپ اس مخصوص مسئلے کو حل بھی کر لیں، اب آپ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت ایک موقع نہیں بلکہ ممکنہ کمزوری بھی ہو سکتی ہے‘۔