غربت کے خاتمے کے لیے ایک اور اہم پیش رفت قومی اسمبلی کی تخفیفِ غربت قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کو اس سال کی تیسری قسط براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔
قائمہ کمیٹی کا اجلاس غلام علی تالپور کی زیرِ صدارت ہوا جہاں سیکرٹری بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے تفصیلی بریفنگ دی اجلاس میں بتایا گیا کہ اب صارفین کے موبائل سم کارڈز کو بینک اکاؤنٹس کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ رقم کی ترسیل کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور محفوظ بنایا جا سکے۔
سیکرٹری کے مطابق صارفین کو یہ سمز وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے جاری کی جا رہی ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان راست سسٹم کے ذریعے رقوم براہِ راست مستحقین کے اکاؤنٹس میں منتقل کرے گا۔
اس حوالے سے نادرا کے ساتھ بات چیت جاری ہے تاکہ تصدیقی عمل کو مزید آسان اور کم لاگت بنایا جا سکے سیکرٹری نے کہا کہ ادارہ کوشش کر رہا ہے کہ نادرا کے چارجز میں بھی کمی کرائی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ سہولت غریب طبقے کو مل سکے۔
اہم بات یہ ہے کہ بی آئی ایس پی کے صارفین ملک بھر میں چھ مختلف بینکوں کی برانچز سے اپنی رقم بآسانی نکلوا سکیں گے اس سال کی تیسری قسط کے لیے 80 فیصد صارفین کو اب کیش کے بجائے براہِ راست بینک اکاؤنٹس کے ذریعے رقم فراہم کی جائے گی ۔
اس اقدام سے نہ صرف بدعنوانی کے امکانات کم ہوں گے بلکہ مستحقین کو ٹرانزیکشن کی مکمل شفافیت بھی حاصل ہوگی یہ اقدام ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے جس سے غریب طبقے کو جدید مالیاتی نظام میں شامل ہونے کا موقع ملے گا۔