امریکا کی وفاقی اپیلز کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسی کے ایک اہم ستون کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کے لگائے گئے کئی محصولات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ 7کے مقابلے میں 4 ججوں کی اکثریتی رائے سے آنے والا یہ فیصلہ ٹرمپ کی تجارتی حکمتِ عملی کو ایک بڑا دھچکہ ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ٹرمپ نے ’انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ ‘ کا غلط استعمال کیا، جس کے تحت انہوں نے چین، کینیڈا اور میکسیکو سے درآمد ہونے والی اشیا پر محصولات عائد کیے تھے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ قانون صدر کو قومی ایمرجنسی کی صورت میں وسیع اختیارات دیتا ہے، لیکن یہ محصولات یا ٹیکس لگانے کی اجازت نہیں دیتا، یہ اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔
یہ فیصلہ خاص طور پر اپریل 2018 میں عائد کیے گئے ’ریسی پروکل ٹیرف‘ اور 2019 میں لگائے گئے اضافی محصولات پر لاگو ہوتا ہے۔ البتہ اسٹیل اور ایلومینیم پر لگنے والے محصولات، جو دوسرے قوانین کے تحت نافذ کیے گئے تھے، اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔
یہ ’سیاسی تعصب پر مبنی فیصلہ‘ ہے، ٹرمپ کا ردعمل
ٹرمپ، جنہوں نے اپنی تجارتی پالیسی میں محصولات کو مرکزی حیثیت دی تھی، نے اس فیصلے کو ’سیاسی‘ قرار دیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ محصولات کو ختم کرنا امریکا کے لیے ’مکمل تباہی‘ ہوگی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ سپریم کورٹ جس میں قدامت پسند اکثریت ہے، اس فیصلے کو کالعدم کر دے گی۔
ان کے وکلاء کا مؤقف تھا کہ امریکا کو درپیش تجارتی خسارہ، صنعتوں کا زوال، اور نشہ آور اشیا جیسے فینٹینیل کی اسمگلنگ ایک ’قومی ایمرجنسی‘ کے مترادف ہیں، جس کی بنیاد پر صدر کو درآمدات پر کنٹرول یا پابندی لگانے کا اختیار حاصل ہے۔
معاشی اور تجارتی خدشات
فیصلے کے بعد عالمی منڈیوں میں نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ تجارتی کشیدگیوں کے باعث پہلے ہی غیر یقینی حالات کا سامنا کرنے والے کاروباری اداروں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آرٹ ہوگن، چیف مارکیٹ اسٹریٹیجسٹ، بی ریلے ولی نے کہا کہ ’کاروباری دنیا کو اس وقت مزید تجارتی غیر یقینی کی بالکل ضرورت نہیں،۔ ’یہ فیصلہ قانونی اور سیاسی محاذ پر ایک نئی جنگ کا آغاز کر سکتا ہے جو مستقبل میں صدر کے تجارتی اختیارات کو دوبارہ متعین کر سکتا ہے‘۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، انتظامیہ اس ممکنہ فیصلے کے لیے تیار تھی اور وہ ممکنہ طور پر دیگر قانونی راستوں کے ذریعے محصولات کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔
اگلا مرحلہ سپریم کورٹ میں مقدمات
عدالت نے 14 اکتوبر تک محصولات کو عارضی طور پر برقرار رکھنے کی اجازت دی ہے، جس سے ٹرمپ کی قانونی ٹیم کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا وقت مل گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ صرف ٹرمپ کی پالیسی کا نہیں بلکہ صدر کے اختیارات کی آئینی حدود کا بھی تعین کرے گا۔
یہ فیصلہ ان کئی قانونی چیلنجز میں سے ایک ہے جن کا سامنا ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کو ہے، جن میں فیڈرل ریزرو کے ساتھ جاری تنازع بھی شامل ہے۔ اگر سپریم کورٹ میں یہ کیس سنا گیا، تو اس کا نتیجہ امریکی اقتصادی پالیسی اور صدر کے اختیارات پر دور رس اثرات ڈال سکتا ہے۔
متعدد مقدمات ابھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور یہ قانونی جنگ آئندہ برسوں میں امریکا کی معاشی پالیسی اور صدارتی اختیارات کی حدود کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔