افغانستان میں 6.0 شدت کا خوفناک زلزلے نے تباہی مچا دی ، زلزلے کے نتیجے میں اب تک 800 سے زیادہ افراد جاں بحق جبکہ 2 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں ۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6.0 تھی، جس کا مرکز صوبے ننگرہار کے شہر جلال آباد کے قریب تھا اور اس کی گہرائی 8 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجکر 47 منٹ پر آیا اور تقریبا 20 منٹ بعد ہی اسی صوبے میں 4.5 شدت کا ایک اور جھٹکا محسوس کیا گیا جس کی گہرائی 10 کلو میٹر تھی۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ کنڑ کے نور گال، ساوکی، واٹ پور، مانوگی اور چپہ درہ اضلاع زیادہ متاثر ہیں جہاں اموات زیادہ ہوئی ہیں ۔
ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ رات آنے والے زلزلے کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا، مقامی حکام اور علاقہ مکین متاثرہ افراد کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہے، مرکز اور قریبی صوبوں سے امدادی ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں جو متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و بحالی کے کاموں میں حصہ لیں گی۔
برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لاشوں کو منتقل کرنے کے ذمہ دار ایک طالبان عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایک گاؤں میں 21 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوئے ہیں، اب بھی صوبے کے کئی اضلاع میں آفٹر شاکس محسوس کیے جا رہے ہیں۔
کنڑ صوبے کے ایک اور عہدیدار نے بتایا ہے کہ بہت بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم اس مرحلے پر، کوئی بھی صحیح اعداد و شمار فراہم نہیں کر سکتا کیونکہ متاثرہ علاقے دور دراز ہیں اور ان تک پہنچنا مشکل ہے۔
طالبان حکومت کی فوری مدد کی اپیل
طالبان حکام نے امدادی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مدد فراہم کریں، سیلاب اور زلزلے کے آفٹر شاکس کے نتیجے میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے علاقے میں سڑکیں بند ہیں۔
واضح رہے کہ رات گئے اسلام آباد، لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، پشاور اور مردان سمیت مختلف اضلاع میں بھی زلزلے کے جھٹکے آئے، اسی کے ساتھ ساتھ چکوال، ٹیکسلا اور واہ کینٹ میں بھی زلزلے کی شدت محسوس کی گئی تھی۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلےکی شدت 6 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کی گہرائی 15 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کا مرکز جنوب مشرقی افغانستان میں تھا۔
زلزلہ پیما مرکز نے بتایا تھا کہ 12 بج کر 38 منٹ پر ہنگو، مالاکنڈ، سوات، مانسہرہ، ایبٹ آباد ، اسلام آباد، راولپنڈی، چترال اور پشاور میں 4.6 شدت کے آفٹر شاکس بھی محسوس کئے گئے تھے۔
یاد رہے کہ سال 2023 میں بھی افغانستان کو 6اعشاریہ تین شدت کے زلزلے نے ہلا کر رکھ دیا تھا جس میں 4ہزار لوگ جان کی بازی ہارے۔
افغانستان میں اتنے زلزلے کیوں آتے ہیں؟
افغانستان میں ہر وقت زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے کیونکہ یہ متعدد فالٹ لائنز کے اوپر واقع ہے جہاں انڈین اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔
سنہ 2022 میں مشرقی افغانستان میں 5.9 شدت کے زلزلے سے کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک اور دیگر تین ہزار زخمی ہوئے تھے۔ یہ دو دہائیوں کے دوران ملک میں آنے والا سب سے بدترین زلزلہ تھا۔