پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نے شفا تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ ایک خصوصی اور فکری نشست میں شرکت کی۔ یونیورسٹی آمد پر فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
قومی سلامتی اور انفارمیشن وارفیئر پر تفصیلی بریفنگ
خصوصی نشست کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی سلامتی کے اہم امور پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے خاص طور پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں اور درپیش چیلنجز کا احاطہ کیا گیا۔
نوجوانوں کو بتایا گیا کہ دورِ حاضر کی جنگیں میدانِ جنگ سے زیادہ ذہنوں میں لڑی جا رہی ہیں، جہاں منفی پروپیگنڈا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے طلبہ کو جعلی خبروں کی پہچان اور معلومات کو آگے بڑھانے سے قبل مستند ذرائع سے تصدیق کی اہمیت پر مدلل گفتگو کی۔
طلبہ کے سوالات اور ابہام کا ازالہ
سیشن کے دوران طلبہ نے قومی سلامتی، ملکی صورتحال اور افواجِ پاکستان کے کردار سے متعلق مختلف سوالات کیے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے تمام سوالات کے تفصیلی اور مدلل جوابات دیے، جس پر شرکا کا کہنا تھا کہ اس نشست سے ان کے ذہنوں میں موجود کئی ابہام دور ہوئے ہیں۔
ہائبرڈ وار اور نوجوان نسل
پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے ’ففتھ جنریشن وارفیئر‘ کا نشانہ ہے، جس میں دشمن عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست اور اداروں کے خلاف اکسانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاک فوج کی قیادت نے حالیہ عرصے میں تعلیمی اداروں کے دوروں اور نوجوانوں سے براہِ راست رابطوں کی پالیسی اپنائی ہے تاکہ انہیں قومی بیانیے سے آگاہ کیا جا سکے اور دشمن کے پروپیگنڈے کو ناکام بنایا جا سکے۔
دشمن کے خلاف ’فکری دفاع‘ کی ضرورت
ڈی جی آئی ایس پی آرکےیونیورسٹیوں میں اس طرح کے سیشنز یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست نوجوانوں کو اپنا سب سے بڑا اثاثہ سمجھتی ہے اور انہیں قومی دھارے میں شامل رکھنا چاہتی ہے۔
بالخصوص وزیرستان جیسے علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی شرکت اور اس اقدام کو سراہنا اس بات کی دلیل ہے کہ دور دراز علاقوں کے نوجوان بھی ملکی سلامتی کے لیے پرعزم ہیں۔
یہ سیشن محض فوجی گفتگو تک محدود نہیں تھا بلکہ اس نے طلبہ کو ’ڈیجیٹل ذمہ داری‘ سکھانے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جو کہ موجودہ دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
شرکاء کا ردِعمل اور خراجِ عقیدت
وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اقبال خان نے نوجوانوں کے مثبت کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا استحکام نئی نسل کی آگاہی سے جڑا ہے۔ اساتذہ اور طلبہ نے دفاعِ وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا۔