ایک اور سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ایک اور سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے 3 ستمبر تک ممکنہ بارشوں کے پیشِ نظر مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال کے خدشے سے متعلق الرٹ جاری کیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مشرقی دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس وقت دریائے ستلج میں 2 لاکھ 53 ہزار کیوسک سے زائد کا غیر معمولی بہاؤ موجود ہے، جبکہ مزید بارش اور ڈیموں سے پانی چھوڑے جانے کے بعد 3 لاکھ کیوسک کا ریلا آنے کا امکان ہے۔

دریائے راوی میں جسر کے مقام پر   60 ہزار کیوسک کا بہاؤ ہے، جو بارشوں اور تھین ڈیم سے اخراج کے بعد بڑھ کر ایک لاکھ 50 ہزار کیوسک تک پہنچ سکتا ہے۔

بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث راوی سے منسلک نالے بین، بسنتَر اور ڈیک میں بھی طغیانی کا خطرہ ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں :پنجاب میں سیلاب، پاک فوج کا جھنگ،چنیوٹ اور ساہیوال میں ریسکیو آپریشن جاری

اسی طرح دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر تقریباً 95 ہزار کیوسک پانی کا نچلی سطح کا بہاؤ موجود ہے، لیکن جموں و کشمیر میں بارش اور ڈیمز (سلال، بگلیہار، ڈل ہستی) سے پانی کے اخراج کے بعد وہاں بھی اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ چناب کے معاون نالوں جموں توی، منور توی اور پلکو میں بھی شدید طغیانی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق نشیبی علاقے اور دریا کنارے بستیوں کے زیر آب آنے، پشتوں میں شگاف پڑنے اور فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

مقامی افراد، کسانوں اور اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور بروقت حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کر رہا ہے، نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر 24 گھنٹے فعال ہے جبکہ سول و عسکری اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں :راوی، ستلج اور چناب کے بعد دریائے سندھ میں شدید سیلاب کا خطرہ! این ڈی ایم اے نے خبردار کردیا

اتھارٹی نے دریا کناروں اور واٹر ویز کے قریب رہائش پذیر آبادی کو فوراً محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور ممکنہ متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو انخلا کے دوران متعلقہ اداروں سے تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔۔

editor

Related Articles