خیبر پختونخوا محکمہ تعلیم نے سرکاری کالجز میں بیچلر آف اسٹڈیز (بی ایس) کے 230 پروگرامز بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ان پروگرامز میں کم داخلوں اور زیادہ ڈراپ آؤٹ شرح کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ بند کیے جانے والے بی ایس پروگرامز کی جگہ اب ایسوسی ایٹ ڈگری (اے ڈی) پروگرامز متعارف کروائے جائیں گے، جو کہ زیادہ عملی اور روزگار سے منسلک سمجھے جا رہے ہیں۔
محکمہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، بی ایس پروگرامز میں شامل کئی مضامین کو ’غیر ضروری‘ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ان میں طلبا کی دلچسپی اور مارکیٹ کی مانگ بہت کم تھی۔ اب تک 36 کالجز میں مخصوص مضامین میں بی ایس پروگرامز بند کیے جا چکے ہیں، جبکہ 128 کالجز میں مجموعی طور پر 230 پروگرامز کو ایسوسی ایٹ ڈگری سسٹم میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
فیصلے کی وجوہات
محکمہ تعلیم کے مطابق، کئی سالوں سے متعدد بی ایس پروگرامز میں طلبا کے داخلے نہایت کم رہے، جبکہ ڈراپ آؤٹ کی شرح بہت زیادہ تھی۔ اس صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے محکمہ تعلیم نے ان پروگرامز کو بند کرنے اور متبادل کے طور پر ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
محکمہ کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’ ہم نے مکمل جائزہ لیا اور پایا کہ طلبا یا تو داخلہ نہیں لے رہے یا درمیان میں ہی تعلیم چھوڑ رہے ہیں۔ اس کے بعد ہمیں ایسے متبادل پر غور کرنا پڑا جو طلبا کی ضروریات اور روزگار کے مواقع سے مطابقت رکھتے ہوں‘۔
رد و بدل کی تفصیلات
بند کیے گئے بی ایس پروگرامز کی تعداد 230 ہے جبکہ متاثرہ کالجز کی تعداد 128ہے، 36 کالجز میں اس پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے، ان کی جگہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ محکمہ تعلیم نے ان کالجز اور بند کیے گئے مضامین کی تفصیلی فہرست بھی جاری کر دی ہے، جو عوام کے لیے دستیاب ہے۔
ماہرینِ تعلیم اور والدین کا ردِعمل
ماہرینِ تعلیم کی جانب سے اس فیصلے پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ لوگ اسے ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں، جو تعلیمی نظام کو روزگار کے مواقع سے جوڑتا ہے، جبکہ کچھ افراد اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس اچانک فیصلے سے طلبا کی تعلیم متاثر ہو سکتی ہے۔
عام رائے ہے کہ ’ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز ملازمت کے لیے فوری مواقع فراہم کر سکتے ہیں، لیکن بی ایس پروگرامز کو بغیر مناسب منصوبہ بندی کے بند کرنا ہزاروں طلبا کے تعلیمی مستقبل کو نقصان پہنچا سکتا ہے‘۔
طلبہ اور والدین کی جانب سے بھی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ اس تبدیلی کے بعد ڈگری کی قانونی حیثیت اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع پر کیا اثر پڑے گا۔
آئندہ کے اقدامات
محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ جو طلبا اس وقت بی ایس پروگرامز میں داخل ہیں، انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ تاہم، متاثرہ کالجز میں نئے داخلے اب صرف ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز میں ہی دیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز کے آغاز کے ساتھ ہی نصاب میں اصلاحات اور اساتذہ کی تربیت بھی کی جائے گی تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
محکمہ تعلیم آئندہ چند روز میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے مزید تفصیلات فراہم کرے گا اور عوامی تحفظات پر ردِعمل دے گا۔