خیبرپختونخوا میں 55 سرکاری کالجز نجی شعبے کے سپرد کرنے تیاریاں شروع

خیبرپختونخوا میں 55 سرکاری کالجز نجی شعبے کے سپرد کرنے تیاریاں شروع

پشاور: خیبرپختونخوا محکمہ اعلیٰ تعلیم نے صوبے کے 55 کالجز کو کم انرولمنٹ، فیکلٹی کی کمی، لیبارٹریوں میں سہولیات کے فقدان اور زیادہ اخراجات کے باعث آؤٹ سورس کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

اس کیساتھ ہی غیر ضروری بی ایس پروگرامز کے خاتمے اور دوبارہ دو سالہ بی اے پروگرام شروع کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ان کالجز کو نجی شعبہ کے حوالے کرنے سے 93 کروڑ روپے سالانہ بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

محکمہ اعلیٰ تعلیم کی دستاویزات کے مطابق صوبے میں مجموعی طور پر 362 کالجز موجود ہیں جن میں خواتین، مردوں اور کامرس کالجز شامل ہیں۔ ان میں سے 320 جنرل اور 42 کامرس کالجز ہیں جن میں اس وقت 2 لاکھ 97 ہزار 637 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

ذرائع کے مطابق غیر ضروری بی ایس پروگرامز شروع کرنے سے نہ صرف یونیورسٹیوں پر دباؤ بڑھا بلکہ کالجز کی سطح پر فیکلٹی کی کمی بھی شدت اختیار کر گئی۔ اس وقت صوبے کے 207 کالجز میں بی ایس پروگرام پڑھایا جا رہا ہے جبکہ مجموعی طور پر 929 بی ایس ڈیپارٹمنٹس فعال ہیں۔ اب محکمہ اعلیٰ تعلیم نے بی ایس پروگرام کے بجائے دوبارہ دو سالہ بی اے پروگرام بحال کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق مختلف کالجز میں طلبہ پر حکومت کا سالانہ خرچ مختلف ہے۔ پشاور کے سٹی، فرنٹیئر اور گورنمنٹ کالجز میں فی طالبعلم 30 سے 35 ہزار روپے سالانہ خرچ آتا ہے۔ تاہم جن کالجز کو آؤٹ سورس کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے وہاں فی طالبعلم سالانہ خرچ ایک لاکھ 72 ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے، کیونکہ ان 55 کالجز میں کل 672 عملہ تعینات ہے جبکہ فی کالج اوسطاً صرف 171 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ حالانکہ ہر کالج میں کم از کم 300 طلبہ کا ہونا ضروری ہے۔

اس منصوبے کو “کولیبریٹو کالج ایڈوانسمنٹ پروگرام” (سی-کیپ) کا نام دیا گیا ہے۔ آؤٹ سورس کیے جانے والے کالجز میں تعلیمی اور انتظامی اختیارات نجی فرموں کے پاس ہوں گے جبکہ کوالٹی ایشورنس محکمہ اعلیٰ تعلیم کے پاس رہے گی۔ متعلقہ اضلاع کے فریش ڈگری ہولڈرز کو ان کالجز میں تعینات کیا جائے گا اور ہر کالج کو فی طالبعلم سالانہ 60 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق ان کالجز کی تعمیر زیادہ تر سیاسی بنیادوں پر کی گئی تھی، اسی وجہ سے وہاں طلبہ کی تعداد کم ہے۔

صوبے بھر کے کالجز میں اس وقت 1 ہزار 858 پی ایچ ڈی اساتذہ کی ضرورت ہے، تاہم صرف 613 اساتذہ پی ایچ ڈی ڈگری رکھتے ہیں، جنہوں نے زیادہ تر اپنی تعلیم کے اخراجات خود برداشت کیے ہیں۔ مزید برآں، 3 ہزار 86 اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ گریڈ 17 سے گریڈ 21 تک کی ان اسامیوں پر تعیناتی کی صورت میں سالانہ 4 ارب 50 کروڑ روپے خرچ آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ایچ ای سی قواعد کے تحت مزید تین ہزار اساتذہ کی بھی ضرورت ہے، یوں بی ایس پروگرام جاری رکھنے کے لیے صوبے کے کالجز کو مجموعی طور پر 6 ہزار سے زائد فیکلٹی درکار ہے۔

دستاویزات کے مطابق ان 55 کالجز پر فی کالج سالانہ 2 کروڑ 76 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ آؤٹ سورس ہونے کی صورت میں یہ اخراجات گھٹ کر فی کالج 1 کروڑ 28 لاکھ روپے رہ جائیں گے، جس سے حکومت کو سالانہ 93 کروڑ 30 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔ اس کے علاوہ ان کالجز پر سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 2 ارب 77 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ کیے جاتے ہیں، جو آؤٹ سورسنگ کے بعد ختم ہو جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ اعلیٰ تعلیم نے اساتذہ کی تعیناتی کے لیے نئے طریقہ کار پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق تقرریاں ڈومیسائل کی بنیاد پر ہوں گی۔ اگر کسی خاتون کا شوہر کسی ضلع میں تعینات ہے تو اس بنیاد پر ان کا تبادلہ اسی ضلع میں کیا جا سکے گا۔ اگر کسی کالج میں متعلقہ ضلع کے اساتذہ دستیاب نہ ہوں تو قریب ترین ضلع کے ڈومیسائل ہولڈرز کو وہاں تعینات کیا جائے گا۔

رابطہ کرنے پر سیکرٹری اعلیٰ تعلیم کامران افریدی نے بتایا کہ صرف ان کالجز کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے جہاں گزشتہ تین سالوں میں داخلوں کی شرح بہت کم رہی ہے۔ بعض کالجز میں تو طلبہ کی تعداد چالیس سے بھی کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کالجز کی سطح پر دوبارہ دو سالہ پروگرام شروع کرنے پر غور جاری ہے تاکہ یونیورسٹیوں پر فنڈز کے حوالے سے موجودہ دباؤ کم ہو سکے۔

سیکرٹری کے مطابق کابینہ کے لیے سمری تیار کی جا رہی ہے اور منظوری کے بعد ہی آؤٹ سورسنگ اور دو سالہ پروگرام پر عمل درآمد شروع ہوگا۔ تاہم محکمہ اعلیٰ تعلیم نے ان دونوں منصوبوں کے حوالے سے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *