پاکستان ،بھارت کے باسمتی چاول اگانے والے اہم علاقوں میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب نے چاول کی فصل کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں باسمتی چاول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
حالیہ بارشوں کے باعث بھارت کی ریاستوں پنجاب اور ہریانہ، اور پاکستان کے پنجاب صوبے میں دریائے راوی، چناب، ستلج اور بیاس کی طغیانی نے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
برآمد کنندگان اور ماہرین کے مطابق، فصل کی کٹائی سے صرف چند ہفتے قبل یہ قدرتی آفت کسانوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
پاکستانی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں باسمتی چاول کی فصل کا تقریباً 20 فیصد نقصان ہوا ہے، جس سے مقامی اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے ۔
بھارت میں حالیہ دنوں میں چاول کی قیمت میں 50 ڈالر فی ٹن تک اضافہ ہوا ہے، اور اگر فصلوں کو مزید نقصان پہنچا تو یہ اضافہ جاری رہ سکتا ہے۔
پاکستان اور بھارت میں حالیہ سیلاب نے جہاں مقامی سطح پر تباہی مچائی ہے، وہیں اس کے عالمی اثرات بھی نمایاں ہیں خاص طور پر چاول جیسی بنیادی غذا کی فراہمی متاثر ہونے سے بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو نہ پایا گیا اور زرعی پالیسیوں میں بہتری نہ لائی گئی تو مستقبل میں غذائی تحفظ ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی برادری، خاص طور پر زرعی پیداوار پر انحصار کرنے والے ممالک کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ موسمیاتی آفات کے معاشی اثرات کو کم کیا جا سکے۔