خیبر پختونخوا میں 13 برس سے برسراقتدار تحریکِ انصاف کی حکومت نے جہاں ‘تعلیمی ایمرجنسی’ کے بلند و بانگ دعوے کیے، وہیں صوبے کی سب سے بڑی تعلیمی درسگاہ، جامعہ پشاور، آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔
پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پی یو ٹی اے) کی جانب سے وزیراعلیٰ کو لکھا گیا حالیہ خط اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ حکومت کے تعلیمی اصلاحات کے تمام تر دعوے صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔
جامعہ پشاور، جو 75 سال سے صوبے کی تعلیمی خدمات سرانجام دے رہی ہے، آج اپنے ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کے سبب شدید ذہنی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ مارچ کی آدھی تنخواہیں نہ ملنا اور 162 ملین روپے کی پنشن کا روکا جانا اس انتظامی نااہلی کا واضح ثبوت ہے جو تحریکِ انصاف کے دورِ اقتدار میں جڑیں پکڑ چکی ہے۔
حکومت کی جانب سے جامعات کی گرانٹس میں کٹوتیوں اور مالی خود مختاری کے نام پر اداروں کو لاوارث چھوڑنے کی پالیسی نے اساتذہ کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک طرف سیاسی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف مستقبل کے معماروں کے لیے خزانہ خالی ہونا حکومتی ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
پیوٹا نے وزیراعلیٰ سے 4 ارب روپے کی فوری گرانٹ اور پنشن فنڈ کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر تیراہ سالہ اقتدار کے بعد بھی صوبے کی سب سے بڑی یونیورسٹی دیوالیہ پن کے دہانے پر ہے، تو یہ نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ تعلیمی تنزلی کی بدترین مثال ہے۔