خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے فتنۃ الہندوستان سے وابستہ خوارج دہشتگردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں 19 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، یہ کارروائیاں 3 مختلف علاقوں شمالی وزیرستان، دتہ خیل اور مہمند میں کی گئیں، جن میں دہشتگردوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مؤثر انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
شمالی وزیرستان میں سب سے بڑی کارروائی
آئی ایس پی آر کے مطابق سب سے بڑی کارروائی مہمند ضلع کے علاقے گلونو میں کی گئی، جہاں انٹیلی جنس اطلاعات پر آپریشن کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 14 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔
دتہ خیل میں جھڑپ، 4 خوارج ہلاک
شمالی وزیرستان ہی کے علاقے دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 4 مزید خوارج دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ جب کہ ایک اور دہشتگرد کو ضلع بنوں میں ایک علیحدہ مقابلے کے دوران ہلاک کیا گیا۔ فورسز نے علاقے کو کلیئر کرتے ہوئے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا۔
مہمند میں دہشتگردوں کی موجودگی پر کارروائی
تیسری بڑی کارروائی مہمند کے علاقے میں کی گئی، جہاں فتنۃ الخوارج کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر فورسز نے بروقت اور ہدفی آپریشن کیا۔ اس کارروائی کے دوران بھی دہشتگردوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا اور علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا۔
مسلسل کامیابیاں اور آپریشنز جاری
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف جاری 3 مختلف آپریشنز میں اب تک کی کامیابیاں قابلِ تحسین ہیں۔ فورسز کی مسلسل کارروائیوں کے باعث دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کمزور ہو رہے ہیں اور ان کی سرگرمیوں پر بڑی حد تک قابو پایا جا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک دشمن عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھیں گی تاکہ ملک میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔