وزیراعظم شہباز شریف کی سیلاب متاثرین کے لیے ہنگامی ریلیف کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف کی سیلاب متاثرین کے لیے ہنگامی ریلیف کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے فوری اور مؤثر ریلیف اقدامات کو حتمی شکل دی جائے، جن میں ایک ماہ کے بجلی کے بل معاف کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت کا سیلاب متاثرین کیلیے بجلی بلز میں بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ

اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے زور دیا کہ سیلاب سے متاثرہ دیہی اور شہری علاقوں دونوں کو فوری مدد پہنچائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’ریلیف بروقت، مؤثر اور سب کو شامل کرنے والا ہونا چاہیے‘۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت ایک ماہ کے بجلی کے بل مکمل طور پر معاف کرنے یا سیلاب سے متاثرہ گھرانوں کو سبسڈی دینے پر غور کر رہی ہے۔

پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں

چناب راوی اور ستلج دریا کے کنارے شدید بارشوں اور سیلاب نے بڑے زرعی اضلاع کو شدید متاثر کیا ہے، جن میں گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، مظفرگڑھ ملتان اور بہاولپور شامل ہیں۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق تقریباً 13 لاکھ 20 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیرِ آب آ چکی ہیں، 6,500 سے زیادہ مویشی ہلاک ہو چکے ہیں اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

حکومت نے زرعی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا مکمل اندازہ پانی کے اترنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

آئی ایم ایف مشن رواں ماہ متوقع

آئی ایم ایف مشن کے 25 ستمبر کو پاکستان پہنچنے کا امکان ہے۔ وزارت خزانہ نے بجٹ میں پرائمری سرپلس اور صوبائی کیش سرپلس کے اہداف میں نرمی کے لیے تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے مالی گنجائش پیدا کی جا سکے۔

اسی کے ساتھ ساتھ حکومت ایک کسان ریلیف پیکیج تیار کر رہی ہے، جو 2022 کے سیلاب کے بعد کے اقدامات کی طرز پر ہوگا، تاکہ دیہی معیشت کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔

این ڈی ایم اے بریفنگ اور مہنگائی کی صورتحال

اس ہفتے وفاقی سیکرٹریز کے ایک وفد نے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں انہیں مون سون کی تباہ کاریوں اور جاری ریلیف اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

سیلاب کے باعث اشیائے خورونوش کی رسد متاثر ہوئی ہے، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق، 11 ستمبر 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے میں مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 5.03 فیصد بڑھی۔

مزید پڑھیں:حکومت سیلاب متاثرین کے لئے عالمی اداروں سے امداد کی اپیل کرے،بلاول بھٹو

سب سے زیادہ قیمتوں میں اضافہ ٹماٹر91 فیصد، چینی 29.3 فیصد، آٹا 18.7فیصد ، دالیں 15فیصد اور گوشت 12فیصد میں ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم، پنجاب حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے بعد آٹے کی قیمتوں میں 10 فیصد کمی سے ہفتہ وار مہنگائی میں کچھ کمی آئی ہے۔

آگے کا لائحہ عمل

پاکستان کو جہاں ایک طرف انسانی بحران کا سامنا ہے، وہیں معاشی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم شہباز شریف نے اعادہ کیا کہ ’متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے‘۔ آئندہ چند ہفتے آئی ایم ایف سے مذاکرات اور ملکی سطح پر ریلیف اقدامات کے حوالے سے نہایت اہم ہوں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *