وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف قطر کے دارالحکومت دوحہ روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ انتہائی اہم ہنگامی عرب-اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ یہ کانفرنس اسرائیل کی جانب سے قطر پر حالیہ فضائی حملوں، فلسطینی شہریوں کی جبری بے دخلی اور خطے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر بلائی گئی ہے۔
غیرمعمولی اجلاس قطر کی میزبانی میں اسلامی تعاون تنظیم، او آئی سی اور عرب لیگ کے تعاون سے منعقد ہو رہا ہے، جس میں رکن ممالک کے سربراہان مملکت، وزرائے اعظم اوراعلیٰ حکام شریک ہو رہے ہیں۔ اجلاس کا مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار، اسرائیلی مظالم کی روک تھام کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی تیاری اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے قیام پرغور کرنا ہے۔
پاکستان کی نمائندگی اور مؤقف
وزیراعظم شہباز شریف کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور آزادی کی مکمل حمایت کا اعادہ کریں گے۔ اپنے خطاب میں وہ اسرائیلی فضائی حملوں، انسانی حقوق کی پامالیوں اور غزہ و مغربی کنارے میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر شدید احتجاج ریکارڈ اور اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم شرکا پر زور دیں گے کہ اسلامی دنیا مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے تاکہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا مؤثر جواب دیا جا سکے اور عالمی سطح پر اس معاملے کو اجاگر کیا جا سکے۔
قطر کے ساتھ یکجہتی
پاکستان قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور حالیہ دنوں میں قطر کی سیکیورٹی اور خودمختاری کو لاحق خطرات کے پیش نظر پاکستان نے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم شہباز شریف نے 11 ستمبر 2025 کو بھی دوحہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے قطری قیادت سے ملاقات میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نے قطر کو یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستان خلیجی خطے میں امن و سلامتی اور سیاسی استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے قطر کے خلاف کسی بھی جارحیت کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان برادر ملک قطر کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔
فلسطین پر اسرائیلی حملے
دوحہ کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب غزہ، نابلس اور دیگر فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں درجنوں شہری شہید اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم اسرائیل کی جارحانہ پالیسی میں کوئی نرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
بین الاقوامی ردعمل اور مسلم امہ کی ذمہ داری
اس کانفرنس کا ایک اہم مقصد مسلم دنیا کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا اور بین الاقوامی فورمز پر مؤثر سفارتی دباؤ ڈالنا ہے تاکہ اسرائیل کو اپنی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے باز رکھا جا سکے۔ پاکستان نے متعدد بار مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری فوری طور پر اس مسئلے پر توجہ دے اور فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔