کھیل کا خوبصورت احساس ختم، بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے نیا تنازع کھڑا کردیا

کھیل کا خوبصورت احساس ختم، بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے نیا تنازع کھڑا کردیا

ایشیا کپ 2025 کا ماحول اس وقت مزید کشیدہ ہو گیا جب بھارت کے کپتان سوریہ کمار یادو نے مبینہ طور پر ایشیائی کرکٹ کونسل (اے سی سی ) کو اطلاع دی ہے کہ اگر بھارت فائنل جیتتا ہے تو وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت میچ: پی سی بی کی شکایت پر میچ ریفری کے خلاف تحقیقات مکمل، تہلکہ خیز انکشافات

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوریہ کمار یادو بھی مودی سرکار کے ہندو توا نظریے کا شکار ہو گئے ہیں، اور ٹی20 ایشیا کرکٹ کپ ٹرافی کی تقریب میں پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کی شرکت پر تحفظات کا اظہار کیا۔

مصافحہ تنازع کی پس منظر

پاک بھارت کرکٹ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیا کپ میچ میں کھلاڑیوں نے ٹاس کے موقع پرمصافحہ کرنے سے گریز کیا۔ اس واقعے کو اسپورٹس مین اسپرٹ کی خلاف ورزی قرار دیا گیا اور شائقین کرکٹ کی جانب سے سخت تنقید کی گئی۔

پی سی بی نے اس معاملے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے آئی سی سی کو میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ کے خلاف کارروائی کا الٹی میٹم دیا۔ پی سی بی کے مطابق پائیکرافٹ نے کپتانوں کو مصافحہ نہ کرنے کی ہدایت دی، جو کہ کرکٹ کے جذبے کے خلاف ہے۔

محسن نقوی کا ردعمل

پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’ یہ انتہائی مایوس کن ہے کہ آج کے کھیل میں اسپورٹس مین اسپرٹ کی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ کھیل میں سیاست لانا اس کی اصل روح کے خلاف ہے۔ امید ہے کہ تمام ٹیمیں مستقبل میں فتح کو وقار اور شائستگی کے ساتھ منائیں گی‘۔

کرکٹ یا سفارت کاری؟ ایشیا کپ کا نازک موڑ

یہ تنازع ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایشیا کپ نہ صرف کرکٹ بلکہ سیاسی اور سفارتی تعلقات کا مرکز بن چکا ہے۔ اب شائقین کی نظریں فائنل میچ کے بعد ہونے والی ٹرافی تقریب پر ہیں کہ آیا ایشین کرکٹ کونسل کوئی متبادل بندوبست کرے گی یا محسن نقوی ہی ٹرافی دیں گے۔

مزید پڑھیں:پاک بھارت میچ: ریفری کے خلاف فوری کاروائی کیوں نہیں کی؟ پی سی بی نے اہم عہدیدار کو معطل کردیا

آئی سی سی اور  ایشین کرکٹ کونسل پر اب دباؤ ہے کہ وہ صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالیں اور باقی میچز کو سیاسی اثرات سے پاک رکھتے ہوئے کھیل کے اصل جذبے کو بحال کریں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *