اگر گندم کی پیداوار میں مزید کمی آئی تو گندم درآمد کرنا پڑے گی، رانا تنویرحسین

اگر گندم کی پیداوار میں مزید کمی آئی تو گندم درآمد کرنا پڑے گی، رانا تنویرحسین

وفاقی وزیر رانا تنویر کا  کہنا ہے کہ اگر گندم کی پیداوار میں مزید کمی آئی تو گندم درآمد کرنا پڑے گی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے میڈیا سے  گفتگو میں کہا کہ  اگر گندم کی پیداوار میں مزید 6 فیصد کمی آئی تو گندم درآمد کرنا پڑے گی۔

ان کاکہنا تھا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو 1.5 ارب ڈالر کی گندم منگوانا پڑے گی، حکومت کی کوشش ہے ایسی گندم پالیسی لائی جائے جو کسان اور عوام دوست ہو، کسانوں میں سوچ پائی جاتی ہے کہ امدادی قیمت نہ ملی تو کم گندم کاشت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں : سونا 5100 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا

رانا تنویر نے کہا کہ سیلاب کی صورت حال اور امدادی قیمت پر آئی ایم ایف سے بات کریں گے، آئی ایم ایف نے چینی کی درآمد پر بھی نرمی کی تھی، امید ہے آئی ایم ایف گندم کی امدادی قیمت پر بھی ریلیف دے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے تناظر میں ملک بھر میں گندم، آٹے اور چاول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد فلور ملز مالکان، غلہ منڈی اور عام دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ سیلاب کے سبب اجناس کی رسد متاثر ہونے سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمیوں میں ہونے والا یہ اضافہ مصنوعی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں رواں سال گندم کی مجموعی پیداوار 29 ملین 69 کروڑ ٹن ریکارڈ کی گئی جو حکومتی ہدف، 32 ملین ٹن، سے کم تھی۔ تاہم حکومت کے پاس بھی گندم کے اضافی ذخائر موجود تھے۔ اس دوران حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ اور سرکاری گوداموں میں اضافی گندم موجود ہونے کے سبب کاشتکاروں سے گندم نہیں خریدی۔

یہ بھی پڑھیں : برطانوی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے بڑا اعلان

حکومت کی جانب سے گندم نہ خریدنے کے سبب مارکیٹ میں گندم قیمت گرنے لگی اور جو گندم گذشتہ سال 3900 روپے فی من فروخت ہوئی تھی، وہ 1800 سے 2000 روپے فی من ہو گئی جس پر کسانوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *