پاکستان کی معیشت سے متعلق بڑی خوشخبری، اہم سنگ میل حاصل کر لیا

پاکستان کی معیشت سے متعلق بڑی خوشخبری، اہم سنگ میل حاصل کر لیا

حکومتی معاشی اصلاحات اور پالیسیوں کے تسلسل کے نتیجے میں پاکستان کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور مجموعی ذخائر 4 سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ حالیہ معاشی اقدامات کے باعث ملکی مالیاتی صورتحال میں بتدریج بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کے مجموعی زرِ مبادلہ ذخائر بڑھ کر 21.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو گزشتہ 4 سال کے دوران بلند ترین سطح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نمایاں اضافے میں حکومتی معاشی پالیسیوں، اصلاحات اور سرمایہ کاری کے بہتر ماحول کا اہم کردار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کیے جارہے، فائیو جی کی نیلامی کے حوالے سے کوششیں آج کامیاب ہوئیں : وزیرِ خزانہ

انہوں نے بتایا کہ مجموعی ذخائر میں سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود ذخائر 16.3 ارب ڈالر ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 5.3 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔ اس طرح اسٹیٹ بینک کے پاس مجموعی ذخائر کا تقریباً 76 فیصد حصہ موجود ہے جو ملک کی مالیاتی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔

مشیر وزیر خزانہ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت کے استحکام اور پالیسی سازی میں خودمختاری کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط زرِ مبادلہ ذخائر کے باعث حکومت کو بیرونی ادائیگیوں، تجارتی سرگرمیوں اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں سہولت ملتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں کے دوران معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور بیرونی مالیاتی تعاون کے نتیجے میں زرِ مبادلہ ذخائر میں بہتری آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمدات اور برآمدات کے توازن کو بہتر بنانے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

خرم شہزاد کے مطابق مضبوط ذخائر کسی بھی ممکنہ معاشی بحران کے دوران فوری ردعمل کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس زیادہ ذخائر ہونے سے حکومت کو مالیاتی پالیسیوں پر بہتر کنٹرول حاصل ہوتا ہے اور معیشت کو غیر یقینی صورتحال سے بچانے میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہو اور ملکی معیشت کو طویل مدتی بنیادوں پر مستحکم بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ کا عالمی معیشت پر ٹیرف بم تمام ممالک سے درآمدات پر 10 فیصد ڈیوٹی نافذ

ماہرین معاشیات کے مطابق زرِ مبادلہ ذخائر میں اضافہ ملکی کرنسی کے استحکام، بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور درآمدی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے۔ مضبوط ذخائر کے باعث عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھتا ہے جس سے سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر معاشی اصلاحات اور پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے تو آئندہ مہینوں میں پاکستان کی معاشی صورتحال مزید بہتر ہونے کے امکانات موجود ہیں۔

Related Articles