وزیراعظم شہباز شریف نے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے جاری اقدامات میں تیزی لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے نہ صرف ماحولیاتی تحفظ میں بہتری آئے گی بلکہ ایندھن کی درآمدی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں (الیکٹرک وہیکلز) کے فروغ پر ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزرا مصدق ملک، محمد اورنگزیب، عطاللہ تارڑ، اویس لغاری، احسن اقبال اور دیگر حکام شریک ہوئے۔
اجلاس میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے ملک گیر سطح پر جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ الیکٹرک موٹر سائیکل اور رکشہ بنانے کے لیے 72 سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 4 مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ، ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے 123 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ آئندہ پانچ سالوں میں 30 فیصد گاڑیوں کے بجلی سے چلنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس سے اندازاً 4.5 بلین ڈالر تک فیول کی بچت ممکن ہو سکے گی۔ اس منصوبے کے تحت گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ “الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیے جاری اقدامات میں تیزی لائی جائے”، انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے نہ صرف ایندھن کی درآمدات میں کمی آئے گی بلکہ یہ ماحولیاتی تحفظ اور انرجی سیکیورٹی کے لیے بھی اہم ہیں۔
وزیراعظم نے الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر دی جانے والی سبسڈی میں شفافیت کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ الیکٹرک وہیکلز اسکیم کے نفاذ میں مزید تیزی لائی جائے۔