کہکشاں کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟ سائنسدانوں کا بڑا انکشاف

کہکشاں کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟ سائنسدانوں کا بڑا انکشاف

ماہرین فلکیات نے ہماری کہکشاں ملکی وے کے کنارے سے متعلق ایک اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد ستاروں کے تفصیلی تجزیے کے بعد سائنس دان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کہکشاں کی حقیقی حد کا تعین ممکن ہو گیا ہے۔

یونیورسٹی آف مالٹا سے وابستہ محققین کے مطابق یہ حد کہکشاں کے مرکز سے تقریباً 40 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ تحقیق کے دوران ستاروں کی عمر اور ان کے مقام کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، جس سے کہکشاں کی ارتقائی تاریخ کا ایک واضح پیٹرن سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھیں :ٹیکنالوجی کی دنیا میں بنایا ’آئی فون 17 ایپل ‘ نے نیا عالمی ریکارڈ

تحقیق بتاتی ہے کہ کہکشاں کے مرکز کے قریب موجود ستارے زیادہ قدیم ہیں، جبکہ جیسے جیسے باہر کی طرف بڑھتے ہیں، ستارے نسبتاً کم عمر ہوتے جاتے ہیں۔ تاہم یہ رجحان ایک خاص مقام تک برقرار رہتا ہے، اس کے بعد صورتحال بدل جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہی مخصوص نقطہ دراصل وہ حد ہے جہاں تک نئے ستاروں کی تشکیل کا عمل فعال رہتا ہے، اور اسی بنیاد پر اسے ملکی وے کا حقیقی کنارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :چاند پر پراسرار حرکت؟ ناسا کے آرٹیمس II مشن نے سب کو حیران کر دیا

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس فرق کی بنیادی وجہ ستاروں کی پیدائش کا عمل ہے۔ مرکز کے قریب گیس اور گرد کے گھنے بادلوں نے ابتدائی دور میں تیزی سے ستارے بنائے، جس کے باعث وہاں پرانے ستاروں کی کثرت ہے۔ اس کے برعکس، دور دراز علاقوں میں یہ مواد کم مقدار میں دستیاب ہے، جس سے ستاروں کی تشکیل سست ہو جاتی ہے اور وہاں نسبتاً کم عمر ستارے پائے جاتے ہیں۔

editor

Related Articles