پاک، افغان تجارتی سرگرمیوں میں اہم پیش رفت، 2 سال کی بندش کے بعد انگور اڈہ بارڈر کھول دیا گیا

پاک، افغان تجارتی سرگرمیوں میں اہم پیش رفت، 2 سال کی بندش کے بعد انگور اڈہ بارڈر کھول دیا گیا

پاکستان میں جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل میں واقع پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم تجارتی راستہ انگور اڈہ بارڈر 2 سال بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جس سے علاقے میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور روزگار کے مواقع میں اضافے کی امید کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک افغان طورخم تجارتی گزرگاہ 25 روز بعد کھولنے کا فیصلہ

ضلعی انتظامیہ کے مطابق آج یکم اکتوبر 2025 سے انگور اڈہ بارڈر پر پاکستان اور افغانستان دونوں جانب سے تجارتی گاڑیوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بحال کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کو قبائلی علاقوں میں معاشی ترقی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

افتتاحی تقریب

بارڈر کے دوبارہ کھلنے کے موقع پر ایک پروقار افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان، رکن قومی اسمبلی، اعلیٰ سول اور عسکری حکام، قبائلی عمائدین، علماء کرام، مقامی تاجر، صحافی اور اسکولوں کے بچے شریک ہوئے۔ تقریب میں پاکستان اور افغانستان کے قومی پرچم لہرائے گئے، قومی ترانے پیش کیے گئے، اور باہمی خیرسگالی کے پیغامات دیے گئے۔

مقامی ردعمل اور امیدیں

اس موقع پر تاجر برادری اور قبائلی عمائدین نے بارڈر کی دوبارہ بحالی کو خوش آئند قرار دیا۔ تاجروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بارڈر کی بندش کے باعث انہیں اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ علاقے میں معاشی بدحالی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ اب بارڈر کھلنے سے نہ صرف معاشی پہیہ دوبارہ چلے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

مزید پڑھیں:طورخم بارڈر کی بندش، پاک افغان سالانہ تجارتی حجم میں ایک ارب ڈالر کی کمی

ایک مقامی تاجر نے کہاکہ ’یہ بارڈر صرف 2 ملکوں کے درمیان راستہ نہیں، بلکہ ہمارے لیے زندگی کی علامت ہے۔ جب بارڈر کھلا ہوتا ہے تو روزگار ہوتا ہے، روزی ہوتی ہے، امن ہوتا ہے‘۔

علاقائی ترقی کی امید

حکام کے مطابق بارڈر کی بحالی سے نہ صرف برمل اور جنوبی وزیرستان بلکہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کو بھی فائدہ ہوگا۔ اس تجارتی راستے کے ذریعے پھل، سبزیاں، خشک میوہ جات، اشیائے خور و نوش، اور دیگر سامان کی تجارت کی جاتی ہے، جو مقامی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

دوسری جانب، سرحد پار افغانستان کے تاجروں نے بھی بارڈر کی بحالی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم دونوں ممالک کے عوام کے لیے دوستی، تجارت اور ترقی کا پیغام ہے۔

سیکیورٹی اور سہولیات

ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بارڈر پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور تجارت سے وابستہ افراد کے لیے سہولیات میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔

انگور اڈہ بارڈر کی دوبارہ بحالی نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کو فروغ دے گی بلکہ جنوبی وزیرستان جیسے پسماندہ علاقے میں معاشی استحکام، روزگار اور امن کے قیام کی جانب بھی ایک مثبت قدم ہے۔

Related Articles