ابتدائی تخمینوں کے مطابق، اس کنویں سے یومیہ 22.5 ملین مکعب فٹ (MMSCFD) گیس اور 690 بیرل خام تیل حاصل ہونے کی توقع ہے۔
یہ کنواں 30 جون 2025 کو کھودا گیا تھا، جس کی گہرائی 3,800 میٹر رکھی گئی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نئی دریافت سے نہ صرف ملک کے ہائیڈروکاربن ذخائر میں اضافہ ہوگا، بلکہ یہ دریافت توانائی کی طلب و رسد کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
اگر یہ ذخائر پیداوار کے مرحلے تک بخوبی پہنچیں تو پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو جزوی رلیف ملنے کے امکانات روشن ہیں، خاص طور پر گیس کی کم ہوتی پیداوار اور توانائی کی درآمدات کے بوجھ کو کم کرنے کے تناظر میں۔
تاہم، مکمل اقتصادی فائدہ حاصل کرنے کے لئے انفراسٹرکچر کی ترقی، لاگت مؤثر استخراجی عمل، اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات ناگزیر ہوں گے۔