حکومت کی جانب سے نامزد وفد کی صدر مملکت آصف علی زرداری سے اہم ملاقات میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی میں کمی کی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
میڈیا رپورٹ کےمطابق دونوں جماعتیں بیان بازی بند کرنے پر رضامند ہو گئی ہیں، پنجاب اور سندھ حکومتوں کے درمیان تنازع کو حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے اعلیٰ سطح کے وفد نے نواب شاہ میں صدر زرداری سے ملاقات کی۔ وفد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔
میڈیا رپورٹ کےمطابق ملاقات میں سندھ اور پنجاب حکومت کے درمیان حالیہ کشیدگی، چولستان نہری منصوبے، اور سیلاب زدگان کے لیے امداد جیسے حساس معاملات زیر بحث آئے۔ صدر زرداری نے حکومتی وفد سے شکوہ کیا کہ ’اپنی پارٹی کے لوگوں کو سمجھائیں، ہم نہیں چاہتے کہ معاملات مزید بگڑیں‘۔ اس پر ن لیگ کی جانب سے بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کو بھی بیان بازی روکنی چاہیے۔
میڈیا رپورٹ کےمطابق ملاقات میں اتفاق ہوا کہ کسی بھی بڑے معاملے پر بات چیت سے قبل ایک دوسرے کا مؤقف سنا جائے گا، تاکہ اتحادی جماعتوں کے درمیان اعتماد قائم رہے۔
دوسری جانب، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 18 اکتوبر کو بلاول ہاؤس کراچی میں طلب کر لیا ہے، جو سانحہ کارساز کی برسی کا دن بھی ہے۔ پارٹی کے بیان کے مطابق اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور مسلم لیگ ن کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں ’اہم فیصلے‘ کیے جائیں گے۔
گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کی سینئر نائب صدر شیری رحمٰن نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر پارٹی کو واضح سیاسی حمایت نہ ملی تو سینیٹ میں حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’اگر آپ کو ہماری ضرورت نہیں، تو یہ آپ کی مرضی ہے، مگر یاد رکھیں ہم سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت ہیں‘۔
میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر آصف زرداری دونوں نے صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے رابطے تیز کر دیے ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کو کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرنے کی خصوصی ہدایت دی گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تنازع محض کوئی چھپا ایجنڈا نہیں بلکہ حقیقی نوعیت کا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن نے اپنی اعلیٰ قیادت پر مشتمل ’اے ٹیم‘ کو صدر زرداری سے مذاکرات کے لیے نواب شاہ بھیجا۔ میڈیا رپورٹ کےمطابق یہ فیصلہ نواز شریف کی منظوری سے کیا گیا۔
واضح رہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب پیپلز پارٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیانات کو ہدفِ تنقید بنایا۔ ن لیگی قیادت کا کہنا ہے کہ ’مریم نواز ہماری ریڈ لائن ہیں‘، جبکہ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ ن لیگ غیر ضروری حساسیت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 18 اکتوبر کو ہونے والا سی ای سی اجلاس اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں پیپلز پارٹی کی جانب سے مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر فیصلے متوقع ہیں۔